ماسکو۔29نومبر (اے پی پی):روسی سائنسدانوں نے 2027 تک روشنی کی رفتار سے کام کرنے والا کمپیوٹر تیار کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی رفتار موجودہ تیز رفتار کمپیوٹر کے مقابلے میں ایک سو سے ایک ہزار گنا تک زیادہ ہو گی۔ تاس کے مطابق روس کے نیشنل سینٹر فار فزکس اینڈ میتھمیٹکس ( این سی پی ایم) کے سائنس دان الیگزینڈر سرگئیف نے کہا کہ آئندہ دو سال میں …
روسی سائنسدانوں کا دو سال میں روشنی کی رفتار سے کام کرنے والا کمپیوٹر تیار کرنے کا اعلان

مزید خبریں
ماسکو۔29نومبر (اے پی پی):روسی سائنسدانوں نے 2027 تک روشنی کی رفتار سے کام کرنے والا کمپیوٹر تیار کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی رفتار موجودہ تیز رفتار کمپیوٹر کے مقابلے میں ایک سو سے ایک ہزار گنا تک زیادہ ہو گی۔ تاس کے مطابق روس کے نیشنل سینٹر فار فزکس اینڈ میتھمیٹکس ( این سی پی ایم) کے سائنس دان الیگزینڈر سرگئیف نے کہا کہ آئندہ دو سال میں ہم 10 کی طاقت 19 فی سیکنڈ سے زیادہ پراسیسنگ کی رفتار سے آپریشنزکی طاقت کے ساتھ ایک ورکنگ پروٹو ٹائپ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جوعالمی سطح پر موجودہ رفتار سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
یہ ایک انتہائی طاقتور ہائبرڈ الیکٹرانک فوٹوونک کمپیوٹنگ سسٹم کا ورکنگ پروٹو ٹائپ ہو گا جو ڈیٹا کو روشنی کی رفتار سے پراسیس کرے گا۔ الیکٹرانکس اور فوٹوونکس کو یکجا کرنے والے کمپیوٹنگ سسٹم کا مقصد آپٹیکل مصنوعی نیورل نیٹ ورکس پر مبنی نیورل نیٹ ورک کے طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا کی تیز رفتار پراسیسنگ کرنا ہے۔
الیگزینڈر سرگئیف نے کہا کہ معروف بین الاقوامی کمپنیوں کے تیار کردہ اپنے یونیورسل پراسیسرز اور گرافکس پراسیسنگ یونٹس والے جدید کمپیوٹرز کے برعکس ان کا خصوصی کمپیوٹنگ سسٹم بہت سے کاموں کے حل کو نمایاں طور پر تیز رفتار ی کا مظاہرہ کر سکتا ہے جو 100 سے 1000 گنا تک ہو سکتا ہے اور یہ کم بجلی کے استعمال کے ساتھ اپنی کارکردگی میں اضافہ کرتے ہوئے 2030 تک ممکنہ طور پر پراسیسنگ کی انتہائی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس کمپیوٹر کی تیاری کے منصوبے پر کام کرنےوالوں میں روسی وفاقی نیوکلیئر سینٹر ، روسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف ایکسپیریمینٹل فزکس اور سمارا سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین شامل ہیں۔








