ہاتھ سے تراشے ہوئے ملکی فرنیچر کی طلب میں دنیا بھر میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، میاں کاشف اشفاق

لاہور۔1دسمبر (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہاتھ سے تراشے ہوئے فرنیچر کی طلب میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور اپنے اعلی معیار و دلکش ڈیزائنوں کی وجہ سے یہ دنیا بھر میں گھروں، دفاتر اور ہوٹلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے …

لاہور۔1دسمبر (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہاتھ سے تراشے ہوئے فرنیچر کی طلب میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور اپنے اعلی معیار و دلکش ڈیزائنوں کی وجہ سے یہ دنیا بھر میں گھروں، دفاتر اور ہوٹلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ اتوار کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مقبولیت ہمارے کاریگروں کی مہارت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے جو اپنے روایتی، وراثتی و ثقافتی ورثے اور جدید جمالیات کو ملا کر لاجواب فن پارے تخلیق کر رہے ہیں جس کی وجہ سے چن ون سمیت پاکستانی فرنیچر معیار اور لازوال ڈیزائن کا استعارہ بن چکے ہیں،

یہ فرنیچر روایتی اور عصری دونوں طرح کی انٹیریئر ڈیزائننگ کا امتزاج ہے اور خریداروں کے اعلی ذوق کی تکمیل کرتا ہے، پرتعیش بیڈز اور ڈائننگ سیٹ سے لے کر آرائشی سائیڈ ٹیبلز اور کرسیوں تک ہر چیز نفاست اور عمدہ ذوق کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ سے بنے ہوئے پیچیدہ ڈیزائن اکثر مغل اور اسلامی فن تعمیر و کیلی گرافی سے متاثر ہوتے ہیں ، اخروٹ، ساگوان اور شیشم کی لکڑی کا استعمال اس فرنیچر کی پائیداری، طاقت اور خوبصورتی کی بنیاد ہے۔ میاں کاشف اشفاق نے مزید کہا کہ پاکستانی فرنیچر اپنی شاندار کاریگری، پیچیدہ نقش و نگار اور بے مثال کشش کیلئے مشہور ہے جبکہ چنیوٹی فرنیچر خوبصورتی اور پائیداری کی علامت تسلیم کیا جاتا ہے۔