اپوزیشن رکن قومی اسمبلی مخدوم زین حسین قریشی نے زرعی شعبہ کی تجدید کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس شعبہ سے ہمارے ملک کی70 فیصد آبادی منسلک ہے، زرعی پیداوار کو بڑھانے کیلئے ملک میں نئے بیج متعارف کرانا ہوں گے
زرعی پیداوار کو بڑھانے کیلئے ملک میں نئے بیج متعارف کرانا ہوں گے، مخدوم زین حسین قریشی

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):اپوزیشن رکن قومی اسمبلی مخدوم زین حسین قریشی نے زرعی شعبہ کی تجدید کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس شعبہ سے ہمارے ملک کی70 فیصد آبادی منسلک ہے، زرعی پیداوار کو بڑھانے کیلئے ملک میں نئے بیج متعارف کرانا ہوں گے، زرعی تحقیقی مراکز کو فعال کرنا ہو گا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں مل رہا، گندم کے کاشتکار نے بڑی مشکل سے اپنی فصل بیچی ہے، بجلی کے ٹیوب ویلوں کے بل ادا کرنا کاشتکار کے بس کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی قرضے بڑھ کر 88 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بغیر نہ گزارہ ہو سکتا ہے اور نہ اب بجلی استعمال کر کے بل کی ادائیگی کی جا سکتی ہے، ڈسکوز کے نقصانات 2022ء میں 120 ارب روپے تھے جو اب 474 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، سرکلر ڈیٹ 1840 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا شروع سے مطالبہ رہا ہے کہ جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ بنایا جائے، اس ایوان میں اس حوالے سے میں نے بل بھی پیش کر رکھا ہے۔








