لاہور ہائیکورٹ ،حق مہر بیوی کا بنیادی قانونی حق ہے جس کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے

لاہور ہائیکورٹ نے حق مہر کی ادائیگی سے متعلق قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا کہ حق مہر بیوی کا بنیادی قانونی حق ہے جس کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ حق مہر کی مکمل ادائیگی تک بیوی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شوہر سے علیحدہ رہ سکتی ہے۔

لاہور۔17جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے حق مہر کی ادائیگی سے متعلق قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا کہ حق مہر بیوی کا بنیادی قانونی حق ہے جس کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ حق مہر کی مکمل ادائیگی تک بیوی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شوہر سے علیحدہ رہ سکتی ہے۔ مزید کہا گیا کہ نکاح کے بعد شوہر پر بیوی کی کفالت اور نان و نفقہ کی مکمل ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لاہورہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے عرفان سرفراز کی آئینی درخواست پر 10صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے اپیلیٹ کورٹ کے دائر اختیار کے خلاف درخواست کو خارج کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کسی آئینی دائرہ اختیار کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا۔فیصلے میں کہا گیا کہ شواہد کا جائزہ لینا فیملی کورٹ کا دائرہ اختیار ہے اور یہ اختیار قانون کے مطابق درست طور پر استعمال کیا گیا۔ عدالت کے مطابق درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اس نے چار کنال زرعی زمین کے عوض چار لاکھ روپے ادا کیے، تاہم وہ اس ادائیگی کے کوئی قابلِ قبول شواہد پیش نہ کر سکا۔عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ایک سمجھدار شخص یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ اتنی بڑی رقم بغیر کسی رسید یا ثبوت کے ادا کی گئی ہو۔ مزید برآں درخواست گزار نے دو گواہوں کا ذکر کیا مگر انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا۔ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کی شادی 2015 میں ہوئی جبکہ خاتون نے 2016 میں حق مہر کے طور پر پانچ تولہ سونا، چار کنال زرعی زمین اور پانچ مرلہ مکان کا دعوی دائر کیا۔ اپیلٹ کورٹ نے درخواست گزار کو چار کنال زرعی زمین اور پانچ تولہ سونا ادا کرنے کے ساتھ ساتھ جہیز کی مد میں تین لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پانچ مرلہ پلاٹ کی ادائیگی سے متعلق دونوں فریقین کے وکلا نے تصدیق کی، لہذا اس حد تک ماتحت عدالت کا فیصلہ درست قرار دیا گیا۔