اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):بینک دولت پاکستان ماحول دوست مالیات (گرین فنانس) کے فروغ کے لئے جو کوششیں کر رہا ہے ان کوششوں کے سلسلے میں اس نے عوام سے آرا ء طلب کرنے کے لئے ’’نیشنل گرین ٹیکسونومی‘‘ کا مسودہ جاری کیا ہے۔ یہ مسودہ وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں عالمی بینک کا تکنیکی تعاون شامل ہے۔سٹیٹ بینک کی …
بینک دولت پاکستان کاگرین فنانس کے فروغ کے سلسلہ میں عوام سے آرا ء طلب کرنے کیلئے ’’نیشنل گرین ٹیکسونومی‘‘ کا مسودہ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):بینک دولت پاکستان ماحول دوست مالیات (گرین فنانس) کے فروغ کے لئے جو کوششیں کر رہا ہے ان کوششوں کے سلسلے میں اس نے عوام سے آرا ء طلب کرنے کے لئے ’’نیشنل گرین ٹیکسونومی‘‘ کا مسودہ جاری کیا ہے۔
یہ مسودہ وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں عالمی بینک کا تکنیکی تعاون شامل ہے۔سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ’’نیشنل گرین ٹیکسونومی‘‘ میں ماحول دوست منصوبوں اور سرگرمیوں کی واضح تشریح موجود ہے جس کی مدد سے پالیسی سازوں، بینکوں اور مالی اداروں اور سرمایہ کاروں کو اپنے سرمائے کا بہاؤ موسمیاتی خطرات کم کرنے اور حسبِ ضرورت تبدیلی لانے والے شعبوں کی طرف کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔
یہ ٹیکسونومی ماحول دوست منصوبوں اور سرگرمیوں کے حوالے سے مالی مارکیٹوں کا فہم بھی واضح کرے گی جس سے ماحول دوست سرمایہ کاری اور مالی مصنوعات میں شفافیت بڑھے گی اور موسمیات سے متعلق مالی خطرات میں کمی آئے گی اور مالی شعبہ اُن منصوبوں یا سرگرمیوں کو سرمایہ فراہم کرنے پر مائل ہوگا جن سے پاکستان کے ماحولیاتی اور موسمیاتی اہداف پورے ہوتے ہوں۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ ٹیکسونومی اس شعبے کے تمام متعلقہ فریقین کے مجموعی نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہو، اس کا مسودہ عوامی رائے دہی کے لیے اسٹیٹ بینک کی آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب ہے ۔ عوام الناس 04 سے 18 فروری، 2025 ء(دو ہفتے) تک اپنی آرا سے آگاہ کرسکتے ہیں۔
مسودے کو عام فہم بنانے اور عوامی رہنمائی کے لیے اس کے ساتھ عمومی سوالات بھی دستیاب ہیں۔ عوامی آرا اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ کے لنک https://www.sbp.org.pk/greentaxonomy/PGT.asp پر دستیاب فارم کے ذریعے [email protected] پر ارسال کی جاسکتی ہیں۔سٹیٹ بینک تمام سٹیک ہولڈرز بشمول ماہرین ِ ماحولیات ، بینکوں اور عوام کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ ٹیکسونومی کے مسودے پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں تاکہ حتمی ٹیکسونومی کے بروقت اجرا کو یقینی بنایا جاسکے۔








