لاہور۔18فروری (اے پی پی):سرپرست اعلیٰ ویئر ہائوسز کنسلٹنٹ پنجاب چیپٹر محمد فرہان منیرنے کہا کہ عالمی تجارت، سپلائی چین سے مسابقت، ریجنل ڈسٹری بیوشن، سرحد پار لاجسٹکس، انوینٹری مینیجمنٹ اور رسک مینجمنٹ کےلئے بیرونی ممالک میں ویئرہائو سز کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ منگل کو ملتان سے ضیا الرحمان کی قیادت میں صنعتکاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویئر ہائوسز عالمی تجارت اور لاجسٹکس …
عالمی تجارت، سپلائی چین سے مسابقت، ریجنل ڈسٹری بیوشن، سرحد پار لاجسٹکس، انوینٹری اور رسک مینجمنٹ کےلئے بیرونی ممالک میں ویئرہائو سز کا قیام ضروری ہے، محمد فرہان منیر

مزید خبریں
لاہور۔18فروری (اے پی پی):سرپرست اعلیٰ ویئر ہائوسز کنسلٹنٹ پنجاب چیپٹر محمد فرہان منیرنے کہا کہ عالمی تجارت، سپلائی چین سے مسابقت، ریجنل ڈسٹری بیوشن، سرحد پار لاجسٹکس، انوینٹری مینیجمنٹ اور رسک مینجمنٹ کےلئے بیرونی ممالک میں ویئرہائو سز کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ منگل کو ملتان سے ضیا الرحمان کی قیادت میں صنعتکاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویئر ہائوسز عالمی تجارت اور لاجسٹکس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اگر یہ بیرون ملک قائم ہوں تو ان کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے ،ان کے ذریعے تجارتی آپریشنز اور بین الاقوامی صارفین کی ڈیمانڈ کو مو ثر طریقے سے پورا کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک میں واقع گودام کمپنیوں کو اپنی مصنوعات علاقائی ممالک میں سپلائی کرنے کے قابل بناتے ہیں، صارفین کے قریب گودام قائم کر کے نقل و حمل کے اخراجات کم ، آرڈر کی تکمیل وقت پر اور مقامی مارکیٹوں میں اپنی رسائی و مسابقت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک ویئر ہائوسز درآمدی یا برآمد شدہ سامان کو ذخیرہ کر کے سرحد پار تجارت کو سہل اور کسٹم کے عمل کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
محمد فرہان منیر نے کہا کہ یہ ویئر ہائوس سپلائی چین میں رکاوٹوں کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں ، قدرتی آفات، سیاسی عدم استحکام یا نقل و حمل میں رکاوٹ جیسے غیر متوقع واقعات کے اثرات کو کم ، انوینٹری کی ری ڈسٹری بیوشن اور مشکل وقت میں کاروبار کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سامان کی پیکیجنگ، لیبلنگ، کٹنگ اور مصنوعات کی کسٹمائزیشن، موڈیفیکیشن اور موثر شپنگ کے لیے بہتر پیکیجنگ جیسی ویلیو ایڈڈ خدمات و سہولیات فراہم ہوتی ہیں۔
انہوں نے نوجوان بزنس مینوں پر زور دیا کہ وہ برآمدی مصنوعات کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دیں اور بیرونی ممالک میں ویئر ہائوس قائم کرکے عالمی منڈیوں میں رسائی پر توجہ دیں نہ کہ پلازوں کی تعمیر اور غیر پیداواری شعبوں پر پیسہ ضائع کیا جائے، تاکہ قومی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔








