ایس او ایز نے مالی سال 2024میں 13524 ارب روپے کامنافع حاصل کیا، نقصان میں جانے والے سرکاری ملکیتی اداروں کا مجموعی خسارہ 851 ارب روپے ریکارڈ

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) نے مالی سال 2024میں 13524 ارب روپے کامنافع حاصل کیا جوسال 2023کے مقابلہ میں 5.2فیصدزیادہ ہے، نقصان میں جانے والے سرکاری ملکیتی اداروں کا مجموعی خسارہ 851 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جومالی سال 2023کے مقابلہ میں 14.03فیصدکم ہے۔یہ بات سرکاری ملکیتی اداروں بارے وزارت خزانہ کی سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کے مطابق نقصان میں …

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) نے مالی سال 2024میں 13524 ارب روپے کامنافع حاصل کیا جوسال 2023کے مقابلہ میں 5.2فیصدزیادہ ہے، نقصان میں جانے والے سرکاری ملکیتی اداروں کا مجموعی خسارہ 851 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جومالی سال 2023کے مقابلہ میں 14.03فیصدکم ہے۔یہ بات سرکاری ملکیتی اداروں بارے وزارت خزانہ کی سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کے مطابق نقصان میں جانے والے سرکاری ملکیتی اداروں کا مجموعی خسارہ 851 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جومالی سال 2023کے مقابلہ میں 14.03فیصدکم ہے، زرتلافیوں کی صورت میں 782 ارب روپے کی حکومتی معاونت اورگرانٹس کی صورت میں 367 ارب روپے کے فنڈز بھی نقصانات کاحصہ ہے۔رپورٹ کے مطابق سرکاری ملکیتی اداروں کی بک ویلیو6.37فیصدکے اضافہ کے بعد38434 ارب روپے ہوگئی ہے جبکہ واجبات 6.7فیصد کے اضافہ سے 32571 ارب ہوگئی جس سے مجموی ایکویٹی کاحجم 5863 ارب روپے ہوگیا جومالی سال 2023کے مقابلہ میں 4.47فیصدزیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024میں این ایچ اے کے نقصانات کاحجم 295.5 ارب روپے،کیسکو120.4 ارب روپے، پیسکو88.7 ارب روپے،پی آئی اے 73.5 ارب روپے،پاکستان ریلویز51.3 ارب روپے، سیپکو37 ارب روپے، لیسکو34.5 ارب روپے،پاکستان سٹیل ملز31.1 ارب روپے،حیسکو22.1 ارب روپے،جینکوٹو17.6 ارب روپے، آئیسکو15.8 ارب روپے،پاکستان پوسٹ 13.4 ارب روپے، ٹیسکو9.5 ارب روپے، جیپکو8.5 ارب روپے، جینکوتھری 7.8 ارب روپے اوردیگرایس او ایز کاخسارہ 23.7 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے برعکس 15سرکاری ملکیتی اداروں نے منافع حاصل کیا جن میں اوجی ڈی سی ایل 208.9 ارب روپے اورپاکستان پیٹرولئیم لمیٹڈ115.4 ارب روپے کے ساتھ سرفہرست ہے۔

دیگرسرکاری ملکیتی اداروں میں نیشنل پاورپارکس نے 76.8 ارب روپے، گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیوٹ لمیٹڈ69.1 ارب روپے، پاک عرب ریفائنری 55 ارب روپے، پورٹ قاسم اتھارٹی 41 ارب روپے، میپکو31.8 ارب روپے، نیشنل بینک 27.4 ارب روپے، واپڈا22.2 ارب روپے، کے پی ٹی 20.3 ارب روپے، پاکستان نیشنل شیپنگ کارپوریشن 20.1 ارب روپے، پی ایس او19.6 ارب روپے، سٹیٹ لائف 18.3 ارب روپے اور پی کے آئی سی نے 15.2 ارب روپے، کامنافع حاصل کیا۔رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران ایس او ایز کومجموعی طورپر1586رب روپے کی معاونت فراہم کی جو مجموعی وفاقی وصولیوں کا13فیصدبنتاہے، حکومت نے ایس او ایز کوگرانٹس کی صورت میں 367 ارب روپے، سبسڈیز کی صورت میں 782 ارب روپے،قرضوں کی صورت میں 336 ارب روپے اورایکویٹی انجکشن کی صورت میں 99 ارب روپے کی معاونت فراہم کی۔

 

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024میں ایس او ایز نے ٹیکسوں کی صورت میں 372 ارب روپے اور نان ٹیکس بشمول سیلزٹیکس، رائلٹیز اورلیویزکی مد میں 1400ار ب روپے کی ادائیگیاں کیں، ان اداروں کاڈیوڈنڈ 82 ارب روپے اورسود کی ادائیگی کاحجم 206 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، ایس او ایز کی مجموعی کنٹری بیوشن کاحجم 2062 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پاورسیکٹر میں وصولیوں اورسپلائی چین جیسے مسائل اور ڈسکوز کی غیرتسلی بخش کارگردگی کی وجہ سے گردشی قرضہ کامسئلہ درپیش ہے

جس نے گورنمنٹ ہولڈنگز، اوجی ڈی سی ایل، پی ایس او اورپی پی ایل جیسے مضبوط اداروں کی مالیاتی صحت کو متاثر کیا ہے۔ کمپنیوں کے درمیان قرضوں میں اضافہ سے بیلنس شیٹس متاثر ہورہاہے جبکہ آپریشنل کارکردگی میں بھی مسائل پیش آرہے ہیں۔رپورٹ میں سرکاری ملکیتی اداروں کی کارگردگی میں بہتری، فعالیت میں اضافہ اورگورننس کے اصولوں کوسختی سے رائج کرنے کی ضرورت پرزوردیاگیاہے۔

مزید خبریں