وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور ڈاکٹر آصف کرمانی کی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد۔ 5 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ ان سوالات کے جوابات چاہئیںکہ جے آئی ٹی کے ارکان کے قطر جانے میں کیا امر مانع ہے، وہ دبئی سے ہو کر واپس کیوں آ گئے ان کا قطر نہ جانا حقائق کو چھپانے کے مترادف ہے۔فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ …

اسلام آباد۔ 5 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ ان سوالات کے جوابات چاہئیںکہ جے آئی ٹی کے ارکان کے قطر جانے میں کیا امر مانع ہے، وہ دبئی سے ہو کر واپس کیوں آ گئے ان کا قطر نہ جانا حقائق کو چھپانے کے مترادف ہے۔فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کیس میں3 مدعی ہیں عمران خان، سراج الحق اور شیخ رشید ہیں۔ ثبوت اکھٹے کرنے پر پیسہ خرچ کرنا مدعی کا کام ہے لیکن یہاں جے آئی ٹی مدعی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ لندن میں لائ فرم کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت کس نے دی کہ اس طرح قوم کا پیسہ ضائع کیا جائے۔ا نہوں نے کہا کہ اخبارات سے پڑھا ہے کہ جے آئی ٹی کے ارکان نے بزنس کلاس میں سفر کیا ،انہین اس کی کس نے اجازت دی کہ ملکی خزانے کے پیسے لے کر وہ دبئی کا سفر بزنس کلاس میںکریں۔ کیا پاکستان کا آئین قانون ان کو بزنس کلاس میں سفر کرنے کی اجازت دیتا ہے اوراس کے لئے اضافی رقم انہوں نے اپنی جیب سے دی یا قومی خزانے سے دی ، قوم اس کا حساب مانگتی ہے۔قوم اپنے ٹیکس کے پیسے کی ایک ایک پائی کا حساب لے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جو پاکیزہ اورخود ساختہ مسٹر کلین بنتے ہیں ان کے بارے میں آج کے اخبار میں خبر ہے کہ گرینڈ ہائٹ ہوٹل میں ان کا بھی ایک فلیٹ ہے جس کاانہوں نے ٹیکس گوشواروں میں ذکر نہیں کیا،یہ مسٹر کلین کا ایک اور چہرہ ہے۔ آج تک عمران خان نے الیکشن کمیشن میں جواب داخل نہیں کرایا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب آپ معاملات کوبہت سنگین بنا رہے ہیں، یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ جس کھیل کو عمران خان آپ نے شروع کیا ھے اسے ختم ہم کریں گے اورغیرملکی فنڈنگ کیلئے بھی آپ جواب جمع نہیں کراسکے۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

Leave a Reply