اسلام آباد ۔ 06 جولائی (اے پی پی) دفتر خارجہ نے عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کریں، پاکستان میں داعش،تحریک طالبان، القاعدہ اور جماعت الاحرار سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے ، حقانی نیٹ ورک کو افغانستان سے چلایا جا رہا ہے،قبائلی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کے الزامات بے …
دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا کی ہفتہ وار پریس بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 06 جولائی (اے پی پی) دفتر خارجہ نے عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کریں، پاکستان میں داعش،تحریک طالبان، القاعدہ اور جماعت الاحرار سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے ، حقانی نیٹ ورک کو افغانستان سے چلایا جا رہا ہے،قبائلی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کے الزامات بے بنیاد ہیں، اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے پاکستان پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں، افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے متعدد رہنماوں کی ہلاکت ہمارے موقف کی تائید ہے۔جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پر امن اور مستحکمافغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ تمام خطے کے مفاد میں ہے۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے تاہم اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے پاکستان کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے متعدد کمانڈروں کی ہلاکت ہمارے موقف کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کو افغانستان سے چلایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ موثر انسداد دہشت گردی آپریشن کے نتیجے میں دہشت گرد پاکستان سے بھاگ رہے ہیں جبکہ دہشت گردوں کے ٹھکانے اور انفراسٹرکچر تباہ کر دیئے گئے ہیں جس سے ملکی سکیورٹی بہتر ہوئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے تمام کوششوں میں تعاون کیلئے تیار ہے تاہم دوسری جانب بھارت افغانستان میں مسئلے کا حصہ ہے اور افغانستان میں امن نہیں چاہتا جبکہ پاکستانی عوام افغانستان کے مخلص دوست ہیں۔








