سپریم کورٹ جے آئی ٹی کو قانون اور آئین کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے کی پابند بنائے، پانامہ کیس میں جو دستاویزات جمع کرائی گئی ہیں ان کی تصدیق کرائی جائے، شریف فیملی کی منی ٹریل کی تصدیق قطری خاندان کررہا ہے، وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک کا پریس کانفرنس سے خطاب اسلام آباد ۔ 06 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کے ترجمان …
وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
سپریم کورٹ جے آئی ٹی کو قانون اور آئین کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے کی پابند بنائے، پانامہ کیس میں جو دستاویزات جمع کرائی گئی ہیں ان کی تصدیق کرائی جائے، شریف فیملی کی منی ٹریل کی تصدیق قطری خاندان کررہا ہے، وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک کا پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ۔ 06 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ شریف خاندان نے پانامہ دستاویزات کیس میں عدل و انصاف کی امید پر اپنے قانونی و آئینی حق سے دستبردار ہو کر اخلاقی فریضہ ادا کرتے ہوئے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا لیکن جے آئی ٹی کے آئین اور قانون سے تجاوز طریقہ کار سے کچھ شکوک وشبہات پھیلے اور سازش کی بو آرہی ہے، مسعود محمود کی طرح سلطانی گواہ تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، سپریم کورٹ جے آئی ٹی کو قانون اور آئین کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے کی پابند بنائے، پانامہ کیس میں جو دستاویزات جمع کرائی گئی ہیں ان کی تصدیق کرائی جائے، شریف فیملی کی منی ٹریل کی تصدیق قطری خاندان کر رہا ہے، جے آئی ٹی اس کی تصدیق کے لئے قطر کیوں نہیں جا رہی، سپریم کورٹ کے پانامہ کیس سے متعلق فیصلہ پر مٹھائی اس لئے بانٹی تھی کہ ہم انصاف کے متلاشی تھے اور قانون و آئین کے مطابق تحقیقات کے خواہاں تھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اگر ہمارے دل میں بغض ہوتا یا تفتیش سے ڈرتے تو فیصلے پر مٹھائی نہ بانٹتے‘ کیا ہم نے مٹھائی اس لئے بانٹی جو طریقہ کار سپر یم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے جے آئی ٹی بنانے کا طریقہ کار لکھا تھا،کیا اس طریقہ کار کے مطابق جے آئی ٹی بنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کیا جے آئی ٹی وہ تمام ثبوتوں کو لیکر آگے بڑھی‘ کیا پی ٹی آئی کے کاغذات کی پڑتال کی گئی ‘دھونس دھاندلی کے ذریعے لوگوں کو کہا گیا کہ بیان حلفی واپس لے لو نہیں تو پندرہ سال کے لئے جیل میں ڈال دیا جائے گا ‘کیا یہ وہ انصاف تھا جس کے لئے ہم نے مٹھائی بانٹی گئی۔








