اقوام متحدہ۔ 07جولائی (اے پی پی) اقوام متحدہ نے سیٹلائیٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر کی روشنی میں بتایا ہے کہ عراق کے شہر موصل میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران شہر کا بیشتر حصہ کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اولڈ موصل سٹی میں کم سے کم 500 عمارتیں مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں جب کہ 5000 عمارتین جزوی طور پر متاثر یا ناقابل استعمال …
موصل کے میں 500 عمارتیں مکمل تباہ اور 5000 متاثر ہوئیں، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔ 07جولائی (اے پی پی) اقوام متحدہ نے سیٹلائیٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر کی روشنی میں بتایا ہے کہ عراق کے شہر موصل میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران شہر کا بیشتر حصہ کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اولڈ موصل سٹی میں کم سے کم 500 عمارتیں مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں جب کہ 5000 عمارتین جزوی طور پر متاثر یا ناقابل استعمال ہوچکی ہیں۔امریکی حمایت یافتہ عراقی فورسز کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ گھمسان کی لڑائی کے بعد داعشی دہشت گردوں کو اب دریائے دجلہ کنارے صرف 250 مربع میٹر کی جگہ پر محصور کردیا گیا ہے،جس کے بعد داعشی دہشت گردوں نے فورسز کی پیش قدمی روکنے کے لیے خود کش حملوں کا سہارا لیا ہے۔اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ آٹھ ماہ سے موصل میں جاری لڑائی کے نتیجے میں 9 لاکھ شہری بے گھر ہوئے ہیں جبکہ شہر کی نصف آبادی جنگ سے پہلے سے موصل سے نقل مکانی کرگئی تھی۔








