اسلام آباد ۔ 08 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزراءنے کہا ہے کہ قطری شہزادے کے خط کی تصدیق کو جے آئی ٹی کا حصہ نہ بنایا گیا تو مسلم لیگ (ن) جے آئی ٹی کی رپورٹ کو تسلیم نہیں کرے گی، قطری شہزادے کے خط کی تصدیق نہ کرنا ناانصافی ہوگی‘ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے تاکہ عوام کو اس حوالے سے آگاہی حاصل ہو …
وفاقی وزراءخواجہ آصف‘ سعد رفیق‘ احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 08 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزراءنے کہا ہے کہ قطری شہزادے کے خط کی تصدیق کو جے آئی ٹی کا حصہ نہ بنایا گیا تو مسلم لیگ (ن) جے آئی ٹی کی رپورٹ کو تسلیم نہیں کرے گی، قطری شہزادے کے خط کی تصدیق نہ کرنا ناانصافی ہوگی‘ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے تاکہ عوام کو اس حوالے سے آگاہی حاصل ہو سکے‘ قطری شہزادہ قطری شہری ہے وہ پاکستانی قوانین کے پابند نہیں، جے آئی ٹی اگر مشرف کے گھر جاسکتی ہے تو وہ قطری شہزادے سے بیان ریکارڈ کرانے کیلئے کیوں نہیں جاسکتی، 1999 میں وزیراعظم نواز شریف کا احتساب کیا گیا لیکن احتساب کے باوجود وزیراعظم کے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہوئی‘انتخابات کے ذریعے عمران خان کا وزیراعظم بننے کا خواب چکنا چور ہوا تو انہوں نے عدالتی کندھا استعمال کرنا شروع کر دیا، پاکستان کی ترقی کو سیاسی بے یقینی میں تبدیل کر کے روکنا مجرمانہ حرکت ہے لیکن چور دروازوں سے اقتدار میں آنے کا وقت گزر چکا‘ پاکستان کے 20 کروڑ عوام سب سے بڑی جے آئی ٹی ہیں۔ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف ‘ وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے مشترکہ طورپر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ جے آئی ٹی کی تشکیل کا طریقہ کار، تشکیل اور ارکان کا انتخاب روز اول سے ہی متنازعہ رہا، جے آئی ٹی مان گئی کہ تصویر ان سے لیک ہوئی لیکن ذمہ دار کا نام نہیں بتایا گیا جب کہ جے آئی ٹی میں لوگوں پر بیان بدلنے کے لیے دبا¶ ڈالا گیا۔








