پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے ، شنگھائی تعاون تنظیم سیاسی، سفارتی اور معاشی اہمیت کا حامل اہم پلیٹ فارم ہے، نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کا ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب

تیانجن۔15جولائی (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے ، یہ خطے میں استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے۔ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کو سیاسی، سفارتی اور معاشی اہمیت کے حامل ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے۔ منگل کو چین کے شہر تیانجن …

تیانجن۔15جولائی (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے ، یہ خطے میں استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے۔ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کو سیاسی، سفارتی اور معاشی اہمیت کے حامل ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے۔ منگل کو چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل (سی ایف ایم) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ، مجھے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اس اہم اجلاس میں شریک ہونے پر فخرہے۔ انھوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد کے حوالے سے پاکستان کےغیرمتزلزل عہد کی تجدید کرتے ہوئے خطے کی اجتماعی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لانے ، علاقائی روابط، مشترکہ خوشحالی، پائیدار ترقی اور دیرپا امن کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کو آگے بڑھانے پر زور دیا ۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدر آمد کی اہمیت پر زور دیا تاکہ طویل عرصے سے جاری تنازعات کو حل کیا جا سکے اور تصادم کی سیاست اور دوہرے معیارات سے گریز کیا جا سکے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈارنے کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کو سیاسی، سفارتی اور معاشی اہمیت کے حامل ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ تیانجن کے خوبصورت شہر میں بھرپور میزبانی کرنے پر چین کے برادر عوام اور قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، ہم چین کی گہری وابستگی اور اس سال شنگھائی تعاون تنظیم کی مضبوطی میں اس کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم بیلاروس کی مکمل رکنیت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی چیلنجز کے اس دور میں شنگھائی تعاون تنظیم ایک مستحکم قوت کے طور پر ابھری ہے، جسکا جامع نقطہ نظر ممالک کی خودمختاری اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیتا ہے، اتفاق، ترقی اور باہمی احترام کے لیے ایس سی او کا عزم ایک بہتر اور مساوی دنیا کی تعمیر کے لیے امید کی کرن ہے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر کے اصولوں پر کاربند رہنے کے عزم کی تجدید کرتا ہے، ہم امن اور سلامتی کے لیے غیر جارحیت، داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور طاقت کے استعمال سے گریز کے اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔

نائب وزیر اعظم نے کہاکہ ہم دیرینہ حل طلب تنازعات کے پرامن حل پر زور دیتے ہیں، جن کا حل بین الاقوامی قانون، انصاف اور دیانت داری کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جارحیت کو پالیسی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے کے رجحانات پر سخت تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسرائیل کی ایران کے خلاف بلاجواز جارحیت اور امریکہ کے جوہری تنصیبات پر حملوں کی سختی سے مذمت کی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے خلاف ایسے غیرقانونی اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ اسحاق ڈار نے غزہ میں اسرائیلی مظالم اورجاری انسانی بحران کو فوری روکنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ فلسطین کے تنازع کا واحد حل دو ریاستی فارمولہ ہے، جس میں 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ متنازعہ علاقوں کی یکطرفہ اور غیرقانونی طور پر تبدیل شدہ حیثیت کی مذمت کی جانی چاہیے۔

وزیر خارجہ نے مندوبین کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم، گزشتہ تین ماہ کے دوران جنوبی ایشیا میں انتہائی پریشان کن واقعات رونما ہوئے ہیں، ہم مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین رکھتے ہیں، جنوبی ایشیا میں امن کے لیے جامع مذاکرات کا آغاز ناگزیر ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ 22 اپریل 2025 کے بعد کے واقعات نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک اہم حقیقت کو واضح کیا ہے کہ دیررینہ حل طلب تنازعات کا پرامن حل خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہاکہ ہم تنظیم کی جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں، سلامتی کے شعبے میں چار نئے مراکز کا قیام تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم انگریزی کو تنظیم کی تیسری سرکاری زبان بنانے کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن ہماری مشترکہ خواہش ہے،اس سلسلہ میں ایس سی او افغانستان رابطہ گروپ کی بحالی ایک موثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتی ہے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی انسانیت کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہے، ہمیں اس کے خلاف متحدہ ہوکرکام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) شنگھائی تعاون تنظیم کے وژن کو تقویت دیتا ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں قومی کرنسیوں کے استعمال اور تجارتی تعاون کو فروغ دینا چاہیے، پاکستان غربت کے خاتمے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی خصوصی ورکنگ گروپ کی مستقل صدارت پر فخر محسوس کرتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدامات کرنا چاہئیں، میں قومی کوآرڈینیٹرز اور ماہرین کی محنت اور لگن کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور پاکستان کی عزم کی تجدید کرتا ہوں کہ ہم ” شنگھائی سپرٹ” کی اقدار کے تحت امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے مل کر کام کریں گے ،آئیں ہم تعاون اور مشترکہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خرجہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر دیگرایس سی او رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں ایران کے وزیر خارجہ سے بات چیت بھی شامل تھی، جس میں انہوں نے علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ۔

ایس سی اوکے تحت ہونے والی مشترکہ سرحدی خدمات کی آپریشن”سالیڈیریٹی 2025 ”میں بیلاروس کی شرکت کا بھی اعلان کیا گیا، جو تنظیم کے ساتھ اس کے تعاون کو مزید مضبوط بنائے گی، یہ اقدام پاکستان کی طرف سے ایس سی او کے ساتھ تعاون اور خطے میں امن و ترقی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی عکاس ہے۔