حکومت پاکستان کی غیرملکی سوشل میڈیا کمپنیوں کو دفاتر کھولنے کی دعوت، ڈیٹا شیئرنگ اور دہشت گردوں کے سوشل میڈیا اکائونٹس ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد۔25جولائی (اے پی پی):حکومت پاکستان نے غیرملکی سوشل میڈیا کمپنیوں کو دفاتر کھولنے کی دعوت دیتے ہوئے ڈیٹا شیئرنگ اور دہشت گردوں کے سوشل میڈیا اکائونٹس ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ غیرملکی سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن …

اسلام آباد۔25جولائی (اے پی پی):حکومت پاکستان نے غیرملکی سوشل میڈیا کمپنیوں کو دفاتر کھولنے کی دعوت دیتے ہوئے ڈیٹا شیئرنگ اور دہشت گردوں کے سوشل میڈیا اکائونٹس ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

غیرملکی سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان کے تحت ڈیجیٹل دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لے رہی ہے، دہشت گردوں کو اظہار رائے کے نام پر اپنا بیانیہ پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خودکار بلاکنگ سسٹم بنائیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز صارفین کے ڈیٹا تک رسائی دیں۔حکومت پاکستان نے غیرملکی سوشل میڈیا کمپنیوں کو دفاتر کھولنے کی دعوت بھی دی۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف گھیرا تنگ کر رہے ہیں، آزادی اظہار کو خاموش نہیں کر رہے، دہشت گردی سے منسلک سینکڑوں سوشل میڈیا اکائونٹس کا پتہ لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے آئی ایس کے پی، ٹی ٹی پی پر پابندی لگائی ہے، امریکا اور برطانیہ نے بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا، ٹی ٹی پی، آئی ایس کے پی، بی ایل اے اور بی ایل ایف سوشل میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈا اور نوجوانوں کو بھرتی کر رہی ہیں،

سوشل میڈیا پر دہشت گردی سے متعلق 2 ہزار 417 شکایات زیر غور ہیں، سوشل میڈیا کمپنیوں کو اے آئی کے ذریعے دہشت گرد مواد فورا ًہٹانا ہوگا۔وزیراعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر عقیل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے پراپیگنڈا پیکا ایکٹ کے تحت قابل سزا جرم ہے۔

مزید خبریں