امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی یونین کی صدر ارسلا فان ڈیر لین کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے ملاقات اتوار کو ہو گی

برسلز۔26جولائی (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی یونین کی صدر ارسلا فان ڈیر لین (کل) اتوار کو اسکاٹ لینڈ میں ملاقات کریں گے تاکہ مہینوں سے جاری ٹرانس اٹلانٹک تجارتی تنازعہ کو حل کرنے کے لیے فیصلہ کن کوشش کی جا سکے۔اے ایف پی کے مطابق ارسلا فان ڈیر لین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ سے اچھی گفتگو کے …

برسلز۔26جولائی (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی یونین کی صدر ارسلا فان ڈیر لین (کل) اتوار کو اسکاٹ لینڈ میں ملاقات کریں گے تاکہ مہینوں سے جاری ٹرانس اٹلانٹک تجارتی تنازعہ کو حل کرنے کے لیے فیصلہ کن کوشش کی جا سکے۔اے ایف پی کے مطابق ارسلا فان ڈیر لین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ سے اچھی گفتگو کے بعد ہم نے اتوار کو اسکاٹ لینڈ میں ملاقات پر اتفاق کیا ہے تاکہ ٹرانس اٹلانٹک تجارتی تعلقات پر بات ہو اور انہیں مضبوط رکھا جا سکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے پریسٹوک ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو میں ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ اتوار کو یورپی یونین سربراہ کے ساتھ ملاقات کروں گا اور ہم ایک معاہدے پر بات کریں گے، ارسلاڈیر لین یہاں ہوں گی ، وہ ایک باوقار خاتون ہیں، ہم اس ملاقات کے منتظر ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ معاہدہ طے پانے کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں کیونکہ 20 نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہ معاہدہ کر لیتے ہیں تو یہ اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ ہو گا۔یہ اعلیٰ سطحی ملاقات ان مذاکرات کے بعد ہو رہی ہے جو کئی مہینوں سے یورپی یونین اور امریکی تجارتی حکام کے درمیان جاری تھے اور حالیہ دنوں میں ایسے اشارے ملے کہ دونوں فریق معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

یورپی سفارتی ذرائع کے مطابق زیر غور معاہدے میں یورپی مصنوعات پر 15 فیصد امریکی ٹیرف شامل ہو سکتا ہے جو اس ہفتے جاپان کے ساتھ طے شدہ سطح کے برابر ہوگا جبکہ بعض اہم شعبوں کو اس سے استثنیٰ بھی دیا جا سکتا ہے۔ارسلا فان ڈیر لین کی ترجمان پاؤلا پینہو نے بتایا کہ اتوار کی ملاقات سے پہلے تکنیکی اور سیاسی سطح پر انتہائی سنجیدہ مذاکرات جاری رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ اب رہنما موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں گے اور ایک متوازن نتیجے کی گنجائش پر غور کریں گے جو دونوں اطراف کے کاروباروں اور صارفین کے لیے استحکام اور پیش گوئی کا باعث بنے۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔