مصنوعی ذہانت کی ترقی اور سکیورٹی میں توازن پر عالمی اتفاق رائے ناگزیر ہے،چینی وزیراعظم

شنگھائی۔26جولائی (اے پی پی):چین کے وزیر اعظم لی چیانگ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی اور سکیورٹی میں توازن پر عالمی اتفاق رائے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس سے جڑے سکیورٹی خطرات کو بھی سنجیدگی سے لینا ہوگا اور اس میں توازن قائم کرنے کے لیے عالمی سطح پر فوری اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ اے ایف پی کے …

شنگھائی۔26جولائی (اے پی پی):چین کے وزیر اعظم لی چیانگ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی اور سکیورٹی میں توازن پر عالمی اتفاق رائے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس سے جڑے سکیورٹی خطرات کو بھی سنجیدگی سے لینا ہوگا اور اس میں توازن قائم کرنے کے لیے عالمی سطح پر فوری اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ورلڈ اے آئی کانفرنس (ڈبلیو اے آئی سی) کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیر اعظم نے اوپن سورس ترقی اور قواعد و ضوابط کے قیام کی اہمیت پر زور دیا ۔انہوں نے کہاکہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات اور چیلنجز عالمی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں، ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے یہ پورے معاشرے سے فوری اتفاق رائے کا متقاضی ہے۔

لی چیانگ نے کہا کہ چین اوپن سورس اے آئی کی ترقی کو بھرپور فروغ دے گا اور اپنی کامیابیاں دیگر ممالک خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر ہم ٹیکنالوجی پر اجارہ داری، کنٹرول اور بندش کی راہ اپنائیں گے تو اے آئی صرف چند ممالک اور اداروں تک محدود ہو جائے گی، صرف اشتراک اور مساوی رسائی کی پالیسی سے ہی اے آئی کے ثمرات زیادہ سے زیادہ ممالک اور افراد تک پہنچ سکتے ہیں۔

ورلڈ اے آئی کانفرنس کے دوران نوبیل انعام یافتہ جیوفری ہنٹن نے خبردار کیا کہ اے آئی کی مثال "ایک بہت ہی پیارے پالتو شیر کے بچے” جیسی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضروری ہے کہ آپ اسے اس وقت سے تربیت دینا شروع کریں، جب وہ آپ کو نقصان نہ پہنچا سکے تاکہ جب وہ بڑا ہو تو آپ کو مارنے کے قابل نہ ہو۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کانفرنس کے آغاز میں اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اے آئی پر عالمی سطح پر ضابطے قائم کرنا "بین الاقوامی تعاون کا ایک اہم امتحان” ہے۔

 

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔