محکمہ زراعت کی پالک کے کاشتکار وں کو بروقت آبپاشی اور چھدرائی یقینی بنانے کی ہدایت

سیالکوٹ۔26جولائی (اے پی پی):محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ نے پالک کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فصل کی بہتر نشوونما اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے بروقت آبپاشی، چھدرائی اور گوڈی جیسے اہم زرعی عوامل پر خصوصی توجہ دیں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت(توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم شاد نے بتایا کہ پٹڑیوں پر کاشت کی گئی پالک کو ہر 6 سے 8 دن بعد پانی دینا چاہیے جبکہ ڈرل سے …

سیالکوٹ۔26جولائی (اے پی پی):محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ نے پالک کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فصل کی بہتر نشوونما اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے بروقت آبپاشی، چھدرائی اور گوڈی جیسے اہم زرعی عوامل پر خصوصی توجہ دیں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت(توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم شاد نے بتایا کہ پٹڑیوں پر کاشت کی گئی پالک کو ہر 6 سے 8 دن بعد پانی دینا چاہیے جبکہ ڈرل سے بوئی گئی فصل کو 10 سے 12 دن کے وقفے سے آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب پودے تین پتے نکال لیں تو اس مرحلے پر چھدرائی یعنی اضافی پودوں کو اکھاڑ دینا ضروری ہے، کیونکہ ایک جگہ زیادہ پودے اگنے کی صورت میں نہ صرف اُن کی نشوونما متاثر ہوتی ہے بلکہ پیداوار میں بھی نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو چاہیے کہ چھدرائی میں تاخیر نہ کریں کیونکہ اگر پودے دیر سے اکھاڑے جائیں تو باقی بچنے والے پودے بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیجائی کے ایک ماہ بعد گوڈی کر کے جڑی بوٹیاں تلف کر دینا بھی ضروری ہے تاکہ فصل کو غذائی اجزاء کی مکمل فراہمی ممکن ہو سکے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ ہر کٹائی کے بعد فی ایکڑ ایک بوری یوریا کھاد ڈالنے سے اگلی فصل کی تیاری تیز ہو جاتی ہے اور اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکارمزید رہنمائی اور معلومات کے لیے محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے رابطہ کریں تاکہ جدید زرعی طریقوں سے فائدہ اٹھا کر زیادہ پیداوار ممکن بنائی جا سکے۔

مزید خبریں