بھارت میں ہرسال 13 ہزار طالب علم خود کشی کرتے ہیں، رپورٹ

نئی دہلی۔28جولائی (اے پی پی):بھارت میں ہرسال 13 ہزار طالب علم خود کشی کرتے ہیں اور یہ تعداد بھارت میں اپنے ہاتھوں اپنی زندگی ختم کرنے والوں کی کل تعداد کا 7.6 فیصد ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد وشمار بھارت میں جرائم کا ڈیٹا مرتب کرنے والے حکومتی ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی)کے ہیں اور 2022 کے ڈیٹا پر مبنی ہیں، …

نئی دہلی۔28جولائی (اے پی پی):بھارت میں ہرسال 13 ہزار طالب علم خود کشی کرتے ہیں اور یہ تعداد بھارت میں اپنے ہاتھوں اپنی زندگی ختم کرنے والوں کی کل تعداد کا 7.6 فیصد ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد وشمار بھارت میں جرائم کا ڈیٹا مرتب کرنے والے حکومتی ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی)کے ہیں اور 2022 کے ڈیٹا پر مبنی ہیں، جبکہ 2023 اور 2024 کے حوالہ سے سرکاری اعداد و شمار ابھی جاری نہیں کئے گئے ۔ بھارتی وزیر مملکت برائے تعلیم سکانت مجمدار نے یہ اعداد و شمار پارلیمنٹ میں پیش کیے جہاں بھارتی حکومت نے تسلیم کیا کہ تعلیمی اصلاحات اور ذہنی صحت کے نئے اقدامات کے باوجود ’’شدید تعلیمی دباؤ‘‘ کمزور طلبہ کو متاثر کرتا رہتا ہے۔

تحقیقات اور سرکاری رپورٹوں کے مطابق تعلیمی اور سماجی دباؤ، ادارہ جاتی معاونت کی کمی اور آگاہی کی کمی جیسے عوامل طلبہ میں خودکشی کے رجحان میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔بھارتی نیورو سائیکاٹرسٹ انجلی ناگپال نے کہا کہ میں ان اعداد و شمار کو ان خاموش اذیتوں کی علامت سمجھتی ہوں جو سماجی اصولوں اور توقعات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ نے بچوں کو ناکامی، مایوسی یا غیر یقینی صورتِ حال سے نمٹنے کا طریقہ نہیں سکھایا جاتا ۔ ہم انہیں امتحانات کے لیے تیار کرتے ہیں، زندگی کے لیے نہیں ۔انجلی ناگپال نے کہا کہ ذہنی صحت کی تعلیم کو سکول کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہونا چاہیے، نہ کہ اسے صرف الگ تھلگ سیشنز تک محدود رکھا جائے۔ طلبہ کو اظہارِ خیال کا موقع اور توجہ سے سنے جانے کی جگہ ملنی چاہیے۔ اساتذہ کو صرف لیکچر دینے کے بجائے سننے کی تربیت دی جانی چاہیے۔

سوسائیڈ پریوینشن انڈیا فاؤنڈیشن کے بانی نیلسن ونود موسیٰ نے کہا کہ ملک میں پائی جانے والی زہریلی مسابقت ، سخت گریڈنگ سسٹم اور ذہنی صحت کے ناقص ڈھانچے اس بحران کےپس پردہ کارفرما بڑے عوامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ کالجوں کے کونسلرز کو خودکشی کی اسکریننگ، خطرے کی تشخیص اور متاثرہ طلبہ کی کونسلنگ کی تربیت دی جانی چاہیے۔کیریئرز360 کے بانی اور سی ای او مہیشور پیری نے کہا کہ بدقسمتی سے بعض اوقات طلبہ کو صرف ایک دن کے امتحان کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے اور وہ اس دباؤ کی وجہ سے اپنی جان لے لیتے ہیں۔ ہمیں ان کے تحفظ کا نظام بنانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر طلبہ تنہا پڑھتے ہیں اور ان کے پاس کوئی معاون نظام نہیں ہوتا۔ طلبہ کی ضروریات کے مطابق ذہنی صحت کی مربوط سہولیات کی فوری ضرورت ہے۔دہلی کے ماہر نفسیات آچل بھگت نے کہا کہ کامیابی کی محدود تعریف، صنفی تفریق، تشدد اور روزگار کے مواقع کی کمی طلبہ کی ذہنی صحت کے مسائل میں کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یا تو آپ ناکام ہیں یا جینیئس۔ ہمارے معاشرتی اور ادارہ جاتی نظام سخت گیر ہیں اور نوجوانوں سے مکالمہ نہیں کرتے۔ یہی احساسِ بے بسی اور مایوسی المیہ بن جاتا ہے۔

ان کے مطابق اس تشویش ناک مسئلے کے حل کے سب سے اہم عناصر میں نوجوانوں کی مستقبل سے متعلق فیصلوں میں ان کی شراکت، رہنمائی اور کامیابی کی وسیع تر تعریف کے لیے قابلِ رسائی رول ماڈلز کی تیاری شامل ہے۔واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اس صورت حال کو’’خودکشی کی وبا‘‘ قرار دیتے ہوئے مارچ میں 10 رکنی قومی ٹاسک فورس تشکیل دی، جو اس وقت ملک گیر مشاورت، ادارہ جاتی جائزے اور جامع پالیسی کی تیاری میں مصروف ہے۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔