غزہ میں قحط انسانیت کے لیے باعث شرم ہے ، سپین، جرمن چانسلر کا امداد کی فراہمی کے لئے فضائی پل قائم کرنے کا اعلان

برلن۔29جولائی (اے پی پی):جرمن چانسلر فریڈرک میرٹس نے اردن کے ساتھ مل کر غزہ کو امداد فراہم کرنے کے لئے ’’ انسانی ہمدردی کا فضائی پل‘‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے جرمنی کے دارالحکومت برلن میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کا ملک اردن کے ساتھ مل کر غزہ کے لئے "انسانی ہمدردی کا فضائی پل" قائم کرے گا جس کا …

برلن۔29جولائی (اے پی پی):جرمن چانسلر فریڈرک میرٹس نے اردن کے ساتھ مل کر غزہ کو امداد فراہم کرنے کے لئے ’’ انسانی ہمدردی کا فضائی پل‘‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے جرمنی کے دارالحکومت برلن میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کا ملک اردن کے ساتھ مل کر غزہ کے لئے "انسانی ہمدردی کا فضائی پل” قائم کرے گا جس کا مقصد فلسطینیوں کی مدد کرنا ہے جو اقوام متحدہ کے مطابق غذائی قلت کی ’’تشویشناک سطح‘‘ کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع بورس پیسٹوریئس فرانس اور برطانیہ کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں کام کریں گے جو غذائی مواد اور طبی سامان پہنچانے کے لئے ایک ایسا ہی ’’فضائی پل‘‘قائم کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔

اس سے قبل سپین نے اعلان کیا تھا کہ وہ رواں ہفتے غزہ میں 12 ٹن غذائی امداد فضائی راستے سے گرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے جاری 21 ماہ کی جنگ کے بعد محصور اور تباہ شدہ غزہ میں قحط کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ایک پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کی کہ غزہ میں امداد گرانے کی کارروائیاں جمعہ کو اردن سے ہسپانوی فضائیہ کے طیاروں کے ذریعے کی جائیں گی۔انہوں نے کہا ہے کہ غزہ میں قحط پوری انسانیت کے لیے شرم کا باعث ہے اور اسے روکنا اس لیے ایک اخلاقی فریضہ ہے۔

وزارت دفاع نے وضاحت کی کہ یہ امداد مارچ 2024 میں اسی طرح کے آپریشن میں تقسیم کی جائے گی جب سپین نے غزہ کو 26 ٹن غذائی مواد فراہم کیا تھا۔ غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں بھوک اور غذائی قلت کے باعث شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 147 ہو گئی ہے جن میں 88 بچے بھی شامل ہیں۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔