متحدہ عرب امارات کی طرف سے غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فضائی ترسیل کا دوبارہ آغاز

ابوظہبی۔29جولائی (اے پی پی):متحدہ عرب امارات نے "برڈز آف گڈنیس" آپریشن کے تحت غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فضائی ترسیل کا دوبارہ آغاز کیا ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کی مشکلات کو کم کرنا اور انہیں خوراک، طبی امداد، پانی اور دیگر فوری ضروریات فراہم کرنا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق یہ مشن "آپریشن الفارس الشهم 3" کا تسلسل ہے، جسے اردن کی …

ابوظہبی۔29جولائی (اے پی پی):متحدہ عرب امارات نے "برڈز آف گڈنیس” آپریشن کے تحت غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فضائی ترسیل کا دوبارہ آغاز کیا ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کی مشکلات کو کم کرنا اور انہیں خوراک، طبی امداد، پانی اور دیگر فوری ضروریات فراہم کرنا ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق یہ مشن "آپریشن الفارس الشهم 3” کا تسلسل ہے، جسے اردن کی ہاشمی سلطنت کے تعاون سے انجام دیا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی عالمی سطح پر کی گئی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ فضائی مشن بحال کیا گیا ہے، جو گزشتہ9 ماہ سے جنگی حالات کے باعث معطل تھا۔ اس مشن کی بحالی متحدہ عرب امارات کے اس عزم کی عکاس ہے کہ وہ برادر فلسطینی قوم کی مشکلات کم کرنے میں اپنا کلیدی کردار جاری رکھے گا۔

ابتدائی طور پر "برڈز آف گڈنیس ” مشن کا آغاز 29 فروری 2024 کو وزارتِ دفاع کے جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے تحت کیا گیا تھا، جس میں اماراتی اور مصری فضائی افواج نے مشترکہ فضائی امداد شمالی غزہ میں فراہم کی تھی۔ پہلے مرحلے میں تین طیاروں کے ذریعے جبالیہ اور بیت لاحیا کے علاقوں میں تقریباً 36 ٹن خوراک اور طبی سامان گرایا گیا تھا۔

اب تک اس اقدام کے ذریعے تقریباً 3,750 ٹن خوراک اور امدادی سامان متاثرہ خاندانوں تک پہنچایا جا چکا ہے، جن میں روزمرہ ضروریات اور ہنگامی طبی سامان شامل ہے، جس سے غزہ کی سنگین انسانی صورتحال میں متاثرین کی فوری ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، اب تک غزہ کو موصول ہونے والی مجموعی بین الاقوامی امداد کا 44 فیصد متحدہ عرب امارات کی طرف سے فراہم کیا گیا ہے۔

فضائی ترسیل کے لیےجی پی ایس سے رہنمائی حاصل کرنے والے امدادی کنٹینرز استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں جدید ترین نظام کی مدد سے ہدف شدہ علاقوں میں صحیح وقت پر امداد پہنچائی جاتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی تنازع اور آفات زدہ علاقوں میں امدادی رسد کی جدید ترین صورت تصور کی جاتی ہے۔”برڈز آف گڈنیس” مشن "آپریشن الفارس الشهم 3” کا ایک کلیدی جزو ہے، جس کا آغاز 5 نومبر 2023 کو صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔ یہ مشن فلسطینی عوام کی امداد کے لیے متحدہ عرب امارات کی وسیع تر انسانی وژن کا حصہ ہے۔31 مارچ 2025 تک متحدہ عرب امارات نے اس مشن کے تحت مسلسل 500 دنوں تک امدادی سرگرمیاں انجام دیں، جن کے دوران 65,000 ٹن سے زائد خوراک، طبی اور امدادی سامان ، جس کی مالیت 1.2 ارب امریکی ڈالر سے زائد ہے ، زمین، سمندر اور فضاء کے ذریعے متاثرین تک پہنچایا گیا۔

"آپریشن الفارس الشهم 3” کے تحت متحدہ عرب امارات کی جانب سے مختلف انسانی منصوبے بھی شروع کیے گئے، جن میں غزہ کے اندر ایک فیلڈ اسپتال اور مصر کے ساحل العریش کے قریب ایک فلوٹنگ ہسپتال شامل ہے۔ علاوہ ازیں، یومیہ دو ملین گیلن صلاحیت کے چھ واٹر ڈی سیلی نیشن پلانٹس قائم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں صاف پانی مہیا کیا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ، 21 موبائل بیکریاں روزانہ کی بنیاد پر تازہ روٹی فراہم کر رہی ہیں، جب کہ 50 فلاحی کچن بے گھر اور مستحق خاندانوں کو کھانا فراہم کر رہے ہیں۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔