بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان قریبی روابط قائم ہیں ، سلامتی کونسل کی رپورٹ میں انکشاف

اقوام متحدہ ۔31جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1988 طالبان پابندیوں سے متعلق مانیٹرنگ ٹیم کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بشمول اس کی مجید بریگیڈ اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان قریبی رابطے قائم ہو چکے ہیں اور یہ دہشت گرد گروہ اب ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی …

اقوام متحدہ ۔31جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1988 طالبان پابندیوں سے متعلق مانیٹرنگ ٹیم کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بشمول اس کی مجید بریگیڈ اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان قریبی رابطے قائم ہو چکے ہیں اور یہ دہشت گرد گروہ اب ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں۔رپورٹ میں 11 مارچ 2025 کو بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ بی ایل اے نے پہاڑی علاقے میں ٹرین کو دھماکہ خیز مواد اور دیگر اسلحے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 31 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 21 یرغمالی شامل تھے۔

یہ واقعہ بی ایل اے کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت اور بے رحمی کا مظہر قرار دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے پاس اس وقت تقریباً 6ہزار مسلح جنگجو موجود ہیں جنہیں افغان طالبان کی "عبوری حکومت” سے لاجسٹک اور آپریشنل مدد حاصل ہے تاہم اس رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ افغان طالبان کے اندر اس تعلق پر اختلافات موجود ہیں ، کچھ حلقے ٹی ٹی پی سے فاصلہ اختیار کرنے کے حق میں ہیں تاکہ علاقائی تعلقات بہتر بنائے جا سکیں۔رپورٹ میں داعش خراسان (ISIL-K) کو خطے اور دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ گروپ کے پاس لگ بھگ 2ہزار جنگجو ہیں جو نہ صرف افغانستان کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں متحرک ہیں بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں اور روسی قفقاز سے بھی بھرتیاں کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ داعش خراسان نے بچوں کو خودکش حملوں کی تربیت دینا شروع کر دی ہے، جہاں 14 سالہ کم عمر لڑکوں کو تیار کیا جا رہا ہے اور خواتین بھی اب سرحد پار کرنے کی کوششوں میں شامل ہیں، جن میں زیادہ تر جنگجوؤں کی بیویاں ہیں۔رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں اپریل کے حملے کا بھی ذکر کیا گیا تاہم اس پر کوئی رائے نہیں دی گئی۔ دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) نے ابتدائی طور پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی مگر بعد میں اس دعوے کو واپس لے لیا۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت نے دہشت گرد گروہوں کے لیے نرم رویہ اپنا رکھا ہے جس سے القاعدہ، ٹی ٹی پی اور داعش جیسے گروہ کھلے عام سرگرم ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ علاقائی کشیدگی برقرار رہی تو دہشت گرد گروہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر مزید حملے کر سکتے ہیں۔

 

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔