روس۔یوکرینجنگ میں چین کے خلاف امریکی بیانیہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، چینی مندوب

اقوام متحدہ۔1اگست (اے پی پی):چین نے روس۔یوکرین جنگ میں چین کے کردار بارے امریکی الزامات کو مسترد کر دیا۔ شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے نے یوکرین پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں چین پر الزام عائد کیا کہ وہ روس کی جنگی کارروائیوں میں سب سے اہم سپلائر ہے۔ اس کے جواب میں اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب گینگ شوانگ نے امریکا کی جانب …

اقوام متحدہ۔1اگست (اے پی پی):چین نے روس۔یوکرین جنگ میں چین کے کردار بارے امریکی الزامات کو مسترد کر دیا۔ شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے نے یوکرین پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں چین پر الزام عائد کیا کہ وہ روس کی جنگی کارروائیوں میں سب سے اہم سپلائر ہے۔ اس کے جواب میں اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب گینگ شوانگ نے امریکا کی جانب سے چین کے خلاف جھوٹے اور تہمت آمیز بیانیے کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ چین نے یوکرین کی جنگ شروع نہیں کی اور نہ ہی وہ اس کا فریق ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے کبھی اس جنگ کے کسی فریق کو مہلک ہتھیار فراہم نہیں کئے ہیں اور ڈرون سمیت د ہرے استعمال کی اشیاء کی برآمد پر سختی سے کنٹرول کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے فریقین پر سلامتی کونسل کی کوئی پابندیاں عائد نہیں ہیں ۔ چین کے روس اور یوکرین کے ساتھ تجارتی تعلقات معمول کے مطابق ہیں۔ ایسا کرنے سے وہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی یا بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔ چین کے جائز حقوق اور مفادات کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔

حقیقت میں اب تک امریکا نے روس کے ساتھ اپنی تجارت کو برقرار رکھا ہے، اگر امریکا خود ایسا کر رہا ہے تو وہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتا؟انہوں نے کہا کہ یوکرین کا بحران اس وقت نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سیاسی حل کی امیدیں اور امکانات روشن ہیں۔ ایسے میں یہ مناسب نہیں کہ امریکا ایک جانب چین سے مطالبہ کرے کہ وہ تنازع کے جلد حل کے لیے مثبت کردار ادا کرے اور دوسری جانب خود ہی چین کو بدنام کرنے اور اس پر دباؤ ڈالنے کی روش اپنائے۔ انہوں نے کہا کہ چین ایک بار پھر امریکاپر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی بے مقصد الزام تراشی کا کھیل بند کرے، اپنی ذمہ داریاں دوسروں پر ڈالنے سے گریز کرے اور جنگ کے خاتمے اور امن مذاکرات کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین بحران کو حل کرنے کے لئے تقسیم اور محاذ آرائی کی نہیں بلکہ اتحاد اور تعاون کی ضرورت ہے۔

چینی مندوب نے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی، میدان جنگ میں ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی اقسام اور رینج کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی تباہ کن طاقت پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ میدان جنگ میں ہتھیاروں کی غیر ذمہ دارانہ سپلائی سے صرف تصادم میں شدت آئے گی، تنازعےکو طول ملے گا، پھیلاؤ کے خطرات پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک اور وسیع تر خطے کے لوگوں کو مزید جانی نقصان اور مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس اور یوکرین کے لیے فوری ضرورت یہ ہے کہ وہ مشترکہ کوششیں کریں تاکہ جلد کشیدگی کم کی جا سکے۔

مذاکرات کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے، باہمی اتفاق رائے کو مضبوط بنایا جائے تاکہ ایک جامع، دیرپا اور قابل عمل امن معاہدہ طے پا سکے۔چینی مندوب نے کہا کہ چین نے پہلے دن سے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کی ہے اور تنازع کے فریقین سے دشمنی ختم کرنے، مذاکرات شروع کرنے اور جلد امن بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین بحران کے جلد سیاسی حل میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ ■

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔