اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے طویل عرصے سے نظر اندازشدہ سیکٹر ای۔ 12 کے الاٹیوں نے وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے)کے چیئرمین و چیف کمشنر کی جانب سے علاقے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کرنے کی حالیہ ہدایات کو عرصہ دراز سے سیکٹر کی ترقی کے منتظر شہریوں کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا ہے۔ سی ڈی اے کے چیئرمین محمد علی …
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ای۔ 12 کے الاٹیوں کاترقیاتی کاموں میں تیزی کا مطالبہ ، چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایات کا خیر مقدم
اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے طویل عرصے سے نظر اندازشدہ سیکٹر ای۔ 12 کے الاٹیوں نے وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے)کے چیئرمین و چیف کمشنر کی جانب سے علاقے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کرنے کی حالیہ ہدایات کو عرصہ دراز سے سیکٹر کی ترقی کے منتظر شہریوں کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا قرار دیا ہے۔
سی ڈی اے کے چیئرمین محمد علی رندھاوا نے رواں ہفتے کے اوائل میں ایک اعلی سطحی اجلاس میں سی ڈی اے کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو تیز کریں اور پلاٹس کی ملکیت کی منتقلی کی تیاری کریں۔ یہ اقدام ہزاروں متاثرہ الاٹیز کے لیے خوش آئند ہے جو 1989 سے ترقی کے منتظر ہیں۔سیکٹر ای۔ 12 کے الاٹیوں کی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر عتیق شیخ نے کہا ہم نے دہائیوں سے صبر کیا ہے ، چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایات ایک مثبت قدم ہے، ترقی پانی، سڑکیں، بجلی اور نکاسی آب جیسی بنیادی سہولیات کے بغیر کسی کو ملکیت نہ دی جائے۔ سیکٹر ای۔ 12، جو 36 سال قبل عوام، سرکاری ملازمین اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے لانچ کیا گیا تھا، میں 4,430 رہائشی پلاٹس شامل ہیں۔
تاہم، یہ سیکٹر اب تک بڑی حد تک غیر ترقی یافتہ ہے، جو کہ الاٹیز کے لیے مستقل مایوسی کا باعث بنا ہوا ہے۔ سی ڈی اے کے اعلان کے جواب میں، ای۔ 12/1۔کے الاٹی اکرم الحق نے کہاکہ یہ حوصلہ افزا قدم ہے کہ سی ڈی اے نے ترقیاتی چارجز معطل کر دیے ہیں اور بنیادی ڈھانچے پر توجہ دے رہا ہے۔ یہ ترجیحات میں تبدیلی طویل عرصے سے ضروری تھی۔
ایک اور الاٹی عمران آمین نے صورتحال کی فوری توجہ پر زور دیا، ہزاروں خاندان تعمیراتی کام شروع کرنے سے قاصر ہیں۔ اب ترقی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ سی ڈی اے نے عدالتی حکم کی روشنی میں ترقیاتی چارجز کی وصول معطل کر دی ہے، جسے الاٹیز نے سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سہولیات فراہم کیے بغیر فیس وصولی مناسب نہیں، لیکن یہ اس وقت تک برقرار رہنا چاہیے جب تک مکمل بنیادی ڈھانچہ فراہم نہیں کر دیا جاتا۔ رپورٹس کے مطابق، توقع ہے کہ سی ڈی اے کچھ ذیلی سیکٹرز میں اگلے مہینے تک ملکیت کی ٹرانسفر کھول دے گا ۔
تاہم، ای-12/4 کے لیے ٹینڈر ابھی جاری نہیں کیا گیا۔ ناقص پیش رفت کے باوجود، الاٹیز کا کہنا ہے کہ وعدوں کی تکمیل کی صورت میں ہم تعمیری تعاون کے لیے تیار اور پرامید ہیں ۔ یہ سی ڈی اے کے لیے انصاف اور ترقی کے عزم کو ثابت کرنے کا فیصلہ کن موقع ہے۔ اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی رہائشی طلب کے پیش نظر، سیکٹر ای۔12 کی تکمیل ہزاروں خاندانوں کو طویل عرصے سے انتظار میں راحت فراہم کر سکتی ہے۔









