اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آصف علی قریشی اور عامر شہزاد کو نجکاری کمیشن بورڈ کا ممبر مقرر کیا ہے، وہ حکومت کے نجکاری کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری، مالیات اور کارپوریٹ قیادت میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔نجکاری کمیشن کی جانب سے منگل کو یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق آصف علی قریشی سی ایف اے انسٹی ٹیوٹ امریکہ سے چارٹرڈ …
آصف علی قریشی اور عامر شہزاد نجکاری کمیشن بورڈ کے ممبران مقرر

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آصف علی قریشی اور عامر شہزاد کو نجکاری کمیشن بورڈ کا ممبر مقرر کیا ہے، وہ حکومت کے نجکاری کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری، مالیات اور کارپوریٹ قیادت میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔نجکاری کمیشن کی جانب سے منگل کو یہاں جاری اعلامیہ کے مطابق آصف علی قریشی سی ایف اے انسٹی ٹیوٹ امریکہ سے چارٹرڈ فنانشل اینالسٹ (سی ایف اے)کی ڈگری رکھتے ہیں، جنہوں نے نیو کیسل یونیورسٹی یو کے سے بین الاقوامی مالیاتی تجزیہ میں ایم اے اور قائداعظم یونیورسٹی سے ایم بی اے (فنانس) کی ڈگریاں بھی کی ہیں۔ آصف علی قریشی اس وقت یو بی ایل فنڈ منیجرز لمیٹڈ کے سی ای او ہیں اور میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایم یو ایف اے پی ) اور سی ایف اے سوسائٹی پاکستان کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
وہ پاکستان کے بینکنگ اور مالیاتی شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور توانائی کے شعبے کی گہری سوجھ بوجھ بھی رکھتے ہیں جو حکومت کے نجکاری پروگرام کا ایک اہم ستون ہے۔ عامر شہزاد کے پاس کارنیل یونیورسٹی امریکہ سے ایگزیکٹو لیڈرشپ پروگرام کا سرٹیفکیٹ ہے اور ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی امریکہ سے بی ایس ان فنانس (کم لاڈ)بھی ہے۔ وہ فی الحال یونٹی فوڈز لمیٹڈ کے چیئرمین ہیں۔ قبل ازیں وہ کمپنی میں ڈائریکٹر اور گروپ سینئر ایگزیکٹو کے طور پر جبکہ عسکری بینک لمیٹڈ میں ای وی پی اور انویسٹمنٹ بینکنگ کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا تجربایف ایم سی جی ، بینکنگ، زرعی کاروبار اور نجی ایکویٹی کے شعبوں تک وسیع ہے۔واضھ رہے کہ بورڈ کے نئے ارکان کی یہ تقرریاں نجکاری کمیشن کی ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ کریں گی، اسے فکری بصیرت سے مالا مال کریں گی اور اس کی سٹریٹجک اور تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط کریں گی – اس طرح زیادہ موثر فیصلہ سازی، نجکاری کے لین دین کی بہتر کارکردگی اور حکومت کے سٹریٹجک مقاصد کے ساتھ بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا۔








