اسلام آباد۔15اگست (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ سروائیکل کینسر پاکستان میں خواتین میں تیسرا سب سے عام کینسر ہے اور بروقت ویکسینیشن سے بے شمار زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں ۔ پاکستان میں حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کو مضبوط بنانے کے لئے نیشنل انٹر ایجنسی کوآرڈینیشن کمیٹی (این آئی سی سی) کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے …
سروائیکل کینسر پاکستانی خواتین میں تیسرا سب سے عام کینسر ،بروقت ویکسین سے جانیں بچائی جا سکتی ہیں، مختار احمد بھرتھ

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اگست (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کہا ہے کہ سروائیکل کینسر پاکستان میں خواتین میں تیسرا سب سے عام کینسر ہے اور بروقت ویکسینیشن سے بے شمار زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں ۔ پاکستان میں حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کو مضبوط بنانے کے لئے نیشنل انٹر ایجنسی کوآرڈینیشن کمیٹی (این آئی سی سی) کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والی ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسینیشن مہم کی وسیع تیاریوں میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشیں انتہائی قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے اس مہم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایچ پی وی کی وجہ سے ہونے والا سروائیکل کینسر پاکستان میں خواتین میں تیسرا سب سے عام کینسر ہے اور بروقت ویکسینیشن سے بے شمار زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں سینئر سرکاری حکام، صوبائی نمائندگان، ڈونر ایجنسیوں اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں نے قومی حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو مضبوط بنانے اور ایچ پی وی مہم کی تیاریوں کے لئے اہم اقدامات کا جائزہ لیا۔
شرکاء نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا کہ ہر بچے کو زندگی بچانے والی ویکسین تک رسائی حاصل ہو۔چیئرمین نے این آئی سی سی کے تمام ممبران کی مشاورت سے ایچ پی وی مہم کے پہلے مرحلے کے لئے رہنما خطوط اور احتیاطی اقدامات کی توثیق کی جبکہ کمیٹی نے متفقہ طور پر معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے لئے پینٹا -1 سے پینٹا -10 خوراک کی شیشی میں مجوزہ تبدیلی کی توثیق کی۔وزیر مملکت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے اعلیٰ معیار کی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے کسی بھی مہم سے پہلے ویکسینیٹرز کے لئے ریفریشر ٹریننگ کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ملک کے صحت کے مقاصد کے حصول کے لئے معمول کے حفاظتی ٹیکوں پر مضبوط توجہ برقرار رکھنا اور پسماندہ شہریوں اور ہدف تک رسائی ضروری ہے۔ انہوں نے ان ترجیحات کو آگے بڑھانے میں ترقیاتی شراکت داروں کے مسلسل تعاون کو بھی سراہا۔وزارت صحت کے سیکرٹری حامد یعقوب شیخ نے کہا کہ اگرچہ ہم بیماریوں کے خاتمے کے لئے پاکستان کی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں لیکن اہم کام اب بھی باقی ہیں۔ انہوں نے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے تحت ملک کے قومی وعدوں کو پورا کرنے کے لئے اجتماعی طور پر کام جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا کہ ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسینیشن مہم اسکول جانے والی اور سکول نہ جانے والی لڑکیوں تک پہنچے اور کہا کہ صحت کے اثرات کو حاصل کرنے کے لئے یہ جامع نقطہ نظر ضروری ہے۔ انہوں نے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور مہم کو کامیاب بنانے کے لئے اپنی مکمل حمایت کا وعدہ کیا۔اس نکتہ کے جواب میں ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی آئی ڈاکٹر صوفیہ یونس نے بتایا کہ تمام فیز ون صوبوں اور وفاقی علاقوں نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے قریبی تعاون اور ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف کی تکنیکی اور آپریشنل معاونت سے پہلے ہی استعداد کار بڑھانے اور وکالت کے سیشنز کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مہم کی تمام منصوبہ بند سرگرمیاں شیڈول کے مطابق جاری ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ویکسینیشن اور ویکسینیشن کے اہداف درست سمت میں رہیں۔ایک اعلیٰ سطحی پلیٹ فارم کی حیثیت سے این آئی سی سی پیش رفت کا جائزہ لینے، چیلنجز سے نمٹنے اور حفاظتی ٹیکوں کے لئے قومی حکمت عملی ترتیب دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اجلاس نے حکومت پاکستان کے اعلی ٰ ویکسی نیشن کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا۔








