کماد کی ستمبر کاشتہ فصل کی بوائی آئندہ ہفتے سے شروع کی جائے ، محکمہ زراعت پنجاب

لاہور۔24اگست (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق صوبہ پنجاب میں ستمبر کاشتہ فصل کی بوائی آئندہ ہفتے سے شروع کی جائے۔ کماد کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے میرا زمین جس میں پانی کا نکاس بہتر ہو اور نامیاتی مادہ بھی کافی مقدار میں پایا جاتا ہوموزوں رہتی ہے۔ سیم اور تھور والی زمینیں گنے کی کاشت کے لیے موزوں نہیں۔ گنے کی جڑیں زمین کے اندر …

لاہور۔24اگست (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق صوبہ پنجاب میں ستمبر کاشتہ فصل کی بوائی آئندہ ہفتے سے شروع کی جائے۔ کماد کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے میرا زمین جس میں پانی کا نکاس بہتر ہو اور نامیاتی مادہ بھی کافی مقدار میں پایا جاتا ہوموزوں رہتی ہے۔

سیم اور تھور والی زمینیں گنے کی کاشت کے لیے موزوں نہیں۔ گنے کی جڑیں زمین کے اندر کافی گہرائی تک جاتیں ہیں اس لیے کم از کم ایک فٹ گہرائی تک زمین کا تیار ہونا ضرروی ہے کماد کی جڑوں کے مناسب پھیلا اور خوراک کے آسان حصول کے لیے زمین نرم، بھربھری اور ہموار ہونی چاہے اس لیے زمین کی تیاری گہرا ہل چلا کر کریں اور زمین کی تیاری سے پہلے اچھی طرح گوبر کی کھاد ڈالیں اور روٹاویٹردو دفعہ چزل ہل مخالف رخ اور3سے4 دفعہ عام ہل بمعہ سہاگہ سے زمین تیار کریں۔ کماد کی ستمبر کاشت کے لیے موزوں وقت یکم تا 30ستمبر ہے۔

کاشتکار کماد کی بہتر پیداوار کے لئے محکمہ زراعت کی منظورشدہ اقسام علاقائی تقسیم کے لحاظ سے کاشت کریں۔کماد کی اگیتی پکنے والی اقسام میں سی پی400 77-،سی پی ایف237،سی پی ایف250 اورپچھیتی پکنے والی اقسام میں سی پی ایف252شامل ہیں۔کاشتکاربروقت کاشت اور دیگر موزوں حالات میں 20 ہزار سمے فی ایکڑ ڈالنے چاہئیں یہ تعداد موٹی اقسام میں تقریبا 100 سے 120 من اور باریک اقسام میں 80 سے 100 من بیج سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

کاشت میں تاخیر ہونے کی صورت میں بیج کی مقدار میں 20 سے 25 فیصدتک اضافہ کر لینا چاہیے۔ کماد کی کاشت کے لیے زمین کی تیاری گہرے ہل چزل سے کریں پھر عام ہل چلا کر سہاگہ دیں اور رجر کے ذریعے 4فٹ کے فاصلہ پر 8 سے10 انچ گہری کھالیاں بنائیں ان کھالیوں میں پہلے فاسفورس اور پوٹاش کھاد ڈالیں اور پھر بیج ڈال کر مٹی کی ہلکی سی تہ سے ڈھانپ دیں۔کاشتکار کماد کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے لئے صرف محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام کا بیج استعمال کریں اور ممنوعہ اقسام ہر گز کاشت نہ کریں۔

مزید خبریں