بلوچستان بارے گمراہ کن بیانیے سے دنیا کے سامنے حقیقت کو مسخ کیا جاتا ہے، وائلنس کے ذریعے ریاست کو توڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ، وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بارے میں گمراہ کن بیانیے سے دنیا کے سامنے حقیقت کو مسخ کیا جاتا ہے، وائلنس کے ذریعے ریاست کو توڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ، حکومت نے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے قانون میں واضح ترامیم کی ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کو اسلام …

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بارے میں گمراہ کن بیانیے سے دنیا کے سامنے حقیقت کو مسخ کیا جاتا ہے، وائلنس کے ذریعے ریاست کو توڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی ، حکومت نے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے قانون میں واضح ترامیم کی ہیں۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے حوالے سے جو بیانیہ پیش کیا جاتا رہا ہے وہ محض ایک تصور ہے، اصل حقیقت نہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کے سامنے بلوچستان کے حالات رکھنا ان کے لیے فخر کی بات ہے اور ان کی خواہش تھی کہ بلوچستان کے حساس معاملات پر ان کیمرہ بات کی جائے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بلوچستان کا الحاق ایک تاریخی حقیقت ہے تاہم بلوچستان کے بارے میں گمراہ کن بیانیے سے دنیا کے سامنے حقیقت کو مسخ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغانستان میں تشدد کو بلوچ شناخت سے جوڑنا درست نہیں۔

سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں عسکریت پسندی کی تاریخ کا بھی ذکر کیا۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری آئین کے تحت احتجاج کر سکتا ہے لیکن سڑکیں بند کرنا غلط ہے، ایمبولینس میں مریض کو مرنے دینا ظلم ہے اور احتجاج کا یہ طریقہ کسی صورت درست نہیں۔ انہوں نے 26 اگست کی رات ایک پنجابی خاندان کو نشانہ بنانے کے واقعہ کو انسانیت سوز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں وکلا پر حملوں نے ریاست اور معاشرے دونوں کو بہت نقصان پہنچایا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کو قانون کے مطابق جواب دینا ہوگا،وائلنس کے ذریعے ریاست کو توڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

مسنگ پرسنز کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور قانون میں واضح ترامیم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو شک کی بنیاد پر حراست میں لینے کے بعد قانون کے تحت کارروائی ہوگی اور حراست میں لیے گئے ہر شخص کا ہفتے میں ایک بار میڈیکل چیک اپ لازمی ہوگا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ دسمبر میں بلوچستان کا ایک بھی سکول بند نہیں ہوگا۔

مزید خبریں