آسٹریلوی سپنر سوفی موہالیو کی طویل عرصہ بعد ٹیم میں واپسی

کینبرا۔29ستمبر (اے پی پی):آسٹریلوی ویمنز کرکٹ ٹیم کی سپنر سوفی موہالیو کی طویل عرصے کے بعد سکواڈ میں واپسی نے ٹیم مینجمنٹ کو ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل مشکل انتخابی فیصلوں سے دوچار کر دیا ہے۔ کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق ہیڈ کوچ شیلی نِچکے کا کہنا ہے کہ ٹیم میں دستیاب باصلاحیت کھلاڑیوں کی بڑی تعداد کے باعث فائنل الیون کے انتخاب میں کچھ سخت فیصلے کرنے ہوں …

کینبرا۔29ستمبر (اے پی پی):آسٹریلوی ویمنز کرکٹ ٹیم کی سپنر سوفی موہالیو کی طویل عرصے کے بعد سکواڈ میں واپسی نے ٹیم مینجمنٹ کو ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل مشکل انتخابی فیصلوں سے دوچار کر دیا ہے۔ کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق ہیڈ کوچ شیلی نِچکے کا کہنا ہے کہ ٹیم میں دستیاب باصلاحیت کھلاڑیوں کی بڑی تعداد کے باعث فائنل الیون کے انتخاب میں کچھ سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔

ورلڈ کپ سے قبل وارم اپ میچ میں آسٹریلیا کو انگلینڈ کے ہاتھوں 4 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم شیلی نچکے نے اس شکست کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے میچ میں تجرباتی بیٹنگ آرڈر آزمایا تھا۔سوفی موہالیو نے گزشتہ سال گھٹنے کی سرجری کے بعد طویل بحالی صحت کا مرحلہ مکمل کیا، انگلینڈ کے خلاف میچ میں 1 وکٹ حاصل کرنے کے ساتھ 10 گیندوں پر 5 رنز بنائے۔

کپتان ایلیسا ہِیلی پہلے ہی اشارہ دے چکی ہیں کہ اگر سوفی موہالیو مکمل فٹ ہو گئیں تو وہ پہلی ترجیح ہوں گی۔شیلی نچکے نے کہا کہ اگر سوفی موہالیو کو سکواڈ میں شامل کیا جاتا ہے تو ٹیم انتظامیہ کو دو لیگ سپنرز جارجیا ویئرہم اور آلانا کنگ میں سے کسی ایک کو ڈراپ کرنا پڑے گا۔ تقریباً 12 ماہ کے بعد ان کی واپسی سکواڈ کے لیے خوش آئند ہے۔ دوسری جانب فاسٹ باؤلنگ کے شعبے میں بھی فیصلہ کرنا آسان نہ ہوگا۔

ڈارسی براؤن نے کمر کی تکلیف کے بعد متاثرکن واپسی کی ہے جبکہ میگن شٹ اور کم گارتھ فی الحال اولین ترجیح ہیں۔بیٹنگ کے شعبے میں نوجوان جارجیا وول جن کا اوسط 63.50 ہے، ممکنہ طور پر سکواڈ میں نہیں ہیں جبکہ ہیذر گراہم جو گریس ہیرس کی جگہ سکواڈ میں شامل کی گئی ہیں، انگلینڈ کے خلاف میچ میں نہ بیٹنگ کر سکیں اور نہ ہی باؤلنگ۔شیلی نچکے نے تسلیم کیا کہ آسٹریلوی بیٹنگ لائن نے انگلش لیگ سپنر سارہ گلین کے خلاف بہتر کھیل پیش نہیں کیا، مگر اُن کے بقول یہ صرف شاٹ سلیکشن کا مسئلہ تھا، نہ کہ ٹیم کے مجموعی جارحانہ انداز میں کوئی خامی تھی۔

انہوں نے کہاکہ ہمارے لیے بھارت کے خلاف کھیلی گئی سیریز بہترین تیاری ثابت ہوئی۔ مختلف کنڈیشنز میں کھیلنے کا تجربہ ٹیم کے لیے مفید رہا ہے اور اب ہم ورلڈ کپ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔واضح رہے کہ آسٹریلیا کی ٹیم آئندہ بدھ کو نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا پہلا ورلڈ کپ میچ کھیلے گی۔