جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روکنے کااسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم نامہ کالعدم ،اپیل منظور

اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی امور سے روکنے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 16 ستمبر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی امور سے روکنے کے حوالے سے درخواست پر منگل کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس …

اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی امور سے روکنے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 16 ستمبر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی امور سے روکنے کے حوالے سے درخواست پر منگل کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل پانچ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔قبل ازیں گزشتہ روز کی سماعت میں عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو پیش ہونے کے نوٹس جاری کیے تھے۔دوران سماعت اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ کسی جج کو عبوری حکم کے ذریعے عدالتی کام سے نہیں روکا جا سکتا ۔

اس پر جسٹس امین الدین خان نے درخواست گزار میاں داؤد سے رائے پوچھی، جواب میں میاں داؤد نے کہا کہ میری بھی یہی رائے ہے، کسی جج کو عدالتی کام سے نہیں روکا جا سکتا،کسی جج کو ان کے فرائض سے روکنے والے حکم کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔آئینی بینچ نے کہاکہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراضات موجود ہیں اس لیے عدالت پہلے رِٹ پٹیشن پر کیے گئے اعتراضات پر فیصلہ کرے۔دوران سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری کے وکیل منیر اے ملک نے موقف اپنایا کہ میں آئینی بینچ کے گزشتہ عدالتی حکم نامے کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ لکھا گیا ہے کہ رٹ قابل سماعت ہے، میری رائے میں ایک جج کیخلاف کارروائی صرف سپریم جوڈیشل کونسل ہی کر سکتی ہے۔

ملک اسد علی کیس میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہائی کورٹ میں رٹ قابل سماعت ہے، یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ ہم نے تسلیم کیا کہ ہائی کورٹ میں رٹ ہو سکتی ہے۔ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے آرڈر میں صرف وہ لکھا ہے جو ملک اسد علی کیس کی لینگویج ہے۔ جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ ہم نے ایک فیصلے میں یہ ہولڈ کیا ہوا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل سے ہی ایک جج کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ ہم رٹ آف کو وارنٹو کے قابل سماعت ہونے کے سوال کو چھو نہیں رہے ہیں۔ ہم نے یہ کہیں پر نہیں کہا کہ ہائی کورٹ میں رٹ قابل سماعت ہے، رٹ قابل سماعت ہے یا نہیں یہ اسی ہائی کورٹ نے ہی طے کرنا ہے، ابھی تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا رٹ پر اعتراضات برقرار ہیں، ہم اس سوال کی طرف نہیں جائیں گے کہ جج کیخلاف رٹ ہو سکتی ہے یا نہیں۔

ہمارے سامنے سوال صرف یہ ہے کہ عبوری حکم نامے کے ذریعے جج کو کام سے روکا جا سکتا تھا یا نہیں۔ جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیئے کہ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی رٹ میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز سروس آف پاکستان میں آتے ہیں، ججز پبلک آفس ہولڈر نہیں ہوتے، یہ وہ ساری باتیں ہیں ۔ ہائی کورٹ میں جب میرٹ پر کیس چلے گا تو زیر بحث آسکتی ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روکنے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم نامے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی اپیل منظور کر لی۔

سربراہ آئینی بینچ جسٹس امین الدین خان نے حکم نامے میں لکھوایا کہ اٹارنی جنرل اور فریقین کے دلائل کے مطابق جج کو کام سے نہیں روکا جا سکتا، درخواست گزار میاں داؤد نے بھی کہا کہ جج کو کام سے روکنے کے آرڈر کا دفاع نہیں ہو سکتا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف دائر درخواست پر اعتراضات ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کو وارنٹو کی سماعت میں پہلے اعتراضات کا فیصلہ کرے۔ 16 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کردیا تھا۔

19 ستمبر کو جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سپریم کورٹ میں خود پیش ہو کر اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، انہوں نے استدعا کی تھی بطور جج کام سے روکنے کا حکم کالعدم اور معطل کیا جائے اور ڈویژن بینچ کو مزید کارروائی سے روکا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کے خلاف 7 درخواستیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کردی تھیں۔

مزید خبریں