پشاور۔ 02 اکتوبر (اے پی پی):قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ تمام صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت فنڈز دیئے جا رہے ہیں ،تمام جماعتوں کو مل کر امن و امان کےلئے کام کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی کو مزید مضبوط کریں گے، ماضی میں صدر آصف علی زرداری نے اختیارات پارلیمنٹ کے حوالے کئے، کوئی جمہوری صدر ہی ایسے کر سکتا …
تمام جماعتوں کو مل کر امن کےلیے کام کرنا چاہیے،قائم مقام صدر

مزید خبریں
پشاور۔ 02 اکتوبر (اے پی پی):قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ تمام صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت فنڈز دیئے جا رہے ہیں ،تمام جماعتوں کو مل کر امن و امان کےلئے کام کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی کو مزید مضبوط کریں گے، ماضی میں صدر آصف علی زرداری نے اختیارات پارلیمنٹ کے حوالے کئے، کوئی جمہوری صدر ہی ایسے کر سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ تمام صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت فنڈز دیئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پاکستان نے اکیلے نہیں بلکہ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک نے مل کر بات چیت کی ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ تمام جماعتوں کو مل کر امن و امان کے لئے کام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کل پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان پیپلز پارٹی کو مزید مضبوط کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کئے، اس سے قبل صدر کے پاس اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا اختیار تھا ، ایک جمہوری صدر ہی ایسا کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مل کر اس ملک کو 1973 کا آئین دیا اور میثاق جمہوریت کی صورت میں 1973 کا آئین بحال کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس ملک و جمہوریت کےلیے اپنی قیادت کی قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے بیرون ملک پاکستان کے موقف کو بہترین طریقے پیش کیا جس کو دنیا نے تسلیم کیا جبکہ ہندوستان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سینٹ میں قانون سازی مشاورت کی جاتی ہے ۔ نئے صوبوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئین میں اس کےلیے واضح طریقہ کار موجود ہے۔








