مصنوعی ذہانت کے محفوظ، مستحکم اور قابل اعتماد نظام کو یقینی بنانے کیلئے جامع عالمی فریم ورک کی ضرورت ہے، سینیٹر انوشہ رحمان کا اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عالمی مکالمہ برائے مصنوعی ذہانت کی حکمرانی سے خطاب

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):سینیٹر انوشہ رحمان نے ایک جامع عالمی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام محفوظ، مستحکم اور قابل اعتماد ہوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوں۔ سینیٹر انوشہ رحمان اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مصنوعی ذہانت کی حکمرانی …

اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):سینیٹر انوشہ رحمان نے ایک جامع عالمی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام محفوظ، مستحکم اور قابل اعتماد ہوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوں۔ سینیٹر انوشہ رحمان اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مصنوعی ذہانت کی حکمرانی پر عالمی مکالمے کے تاریخی آغاز میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق عالمی مکالمے برائے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی حکمرانی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مصنوعی ذہانت میں مساوات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کو آسان بنایا جا سکے، انفراسٹرکچر تک سستی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے، ترقی پذیر ممالک کے لیے معیاری ڈیٹا سیٹس اور اہم معلومات دستیاب کی جا سکیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے تحت ایک ’’مصنوعی ذہانت فنڈ‘‘ کے قیام کا مطالبہ بھی کیا تاکہ پائیدار مالی وسائل اور صلاحیت سازی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے مکالمے اور متعلقہ پینلز میں ترقی پذیر ممالک کی منصفانہ نمائندگی کی اہمیت پر زور دیا تاکہ خطے کی حقیقی صورتحال کو نتائج میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے شہریوں خاص طور پر بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کے تحفظ کی فوری ضرورت کی نشاندہی کی جس میں پرائیویسی اور ذاتی آزادیوں کا تحفظ، جعلی ویڈیوز (ڈیپ فیکس) اور گمراہ کن معلومات سے آگاہی اور ڈیٹا کے تعصب و غلط استعمال جیسے چیلنجز سے نمٹنا شامل ہے۔

سینیٹر انوشہ رحمن نے پاکستان کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک نے ’’نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس پالیسی 2025‘‘ کو اختیار کیا ہے جو جامع اور پائیدار ترقی کے لیے اے آئی کو بروئے کار لانے کا ایک روڈ میپ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پالیسی انسانی سرمائے اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے قوانین کو مضبوط بنانے پر بھرپور زور دیتی ہے تاکہ اے آئی ٹیکنالوجیز کو محفوظ طریقے سے اپنایا جا سکے۔

سینیٹر انوشہ رحمان نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو عوامی فلاح اور مشترکہ خوشحالی کا محرک بننا چاہیے، پاکستان اقوام متحدہ، اس کی ایجنسیوں اور تمام عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ذمہ دارانہ اور منصفانہ اے آئی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

مزید خبریں