ماسکو ۔3اکتوبر (اے پی پی):روس نے کہاہے کہ اقوام متحدہ سیکرٹریٹ نے ایران پر پابندیوں کی قرارداد کی بحالی کے معاملے میں اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے ۔ تاس کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اقوام متحدہ سیکرٹریٹ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایران سے متعلق پابندیوں کی قرارداد کے معاملے میں اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ …
اقوام متحدہ سیکرٹریٹ نے ایران پر پابندیوں کی قرارداد کی بحالی کے معاملے میں اپنی حدود سے تجاوز کیا، روس

مزید خبریں
ماسکو ۔3اکتوبر (اے پی پی):روس نے کہاہے کہ اقوام متحدہ سیکرٹریٹ نے ایران پر پابندیوں کی قرارداد کی بحالی کے معاملے میں اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے ۔ تاس کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اقوام متحدہ سیکرٹریٹ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایران سے متعلق پابندیوں کی قرارداد کے معاملے میں اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ سیکرٹریٹ جلد بازی میں ایران کے حوالے سے بحال کی گئی قرارداد کے بارے میں اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا، جو کہ اپنے مینڈیٹ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، اور یہ مغربی تعصب کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سیکرٹریٹ کو اس قسم کے حساس امور پر رائے دینے کا اختیار نہیں دیا ہے، کیونکہ یہ مکمل طور پر سلامتی کونسل کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ماریا زاخارووا نے کہا کہ یہ کارروائی ایک وسیع مغربی پروپیگنڈہ مہم کے تناظر میں ہوئی ہے، جس میں "اہم مغربی میڈیا ایک بار پھر عالمی سطح پر ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کرنے کا نظریہ زور و شور سے پیش کر رہے ہیں، جو کہ مشترکہ جامع کارروائی منصوبے (جی سی پی او اے ) کے تحت اٹھائی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ مغربی پروپیگنڈہ کی نظر میں بین الاقوامی ناظرین کو یہ غلط تاثر دیا جا رہا ہے کہ 2015 تک نافذ رہنے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی قرارداد دوبارہ موثر ہو گئی ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ برطانیہ، جرمنی، فرانس اور امریکہ، جو پابندیوں کے حق میں ہیں، اس کو ایران کے JCPOA میں وعدوں کی خلاف ورزی کے الزام پر سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کی ناکامی کے ذریعے پرانی پابندیاں بحال کرنے کی بنیاد کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ مغربی میڈیا اس معاملے پر "حقیقی ہسٹریا کی حالت میں ہے”، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کی پوزیشن میں قانونی تضاد اور طریقہ کار کی خامیاں ہیں۔








