کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز ڈیوٹی /ٹیکس چوری کے گھپلے کا انکشاف،کروڑوں روپے مالیت کی الیکٹرانکس اشیاءضبط

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انفورسمنٹ کی ایک غیر معمولی کارروائی کے دوران جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر کئے جانے والے ایک بڑے فراڈ کا سراغ لگایا ہے جس میں قیمتی الیکٹرانک اشیا ء کو ڈیکلریشن جمع کرائے بغیر یا کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کیے بغیر غیر قانونی طور پر باہر نکالا جا رہا تھا۔ یہ سکینڈل ایک غیر ملکی گرائونڈ ہینڈلنگ …

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انفورسمنٹ کی ایک غیر معمولی کارروائی کے دوران جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر کئے جانے والے ایک بڑے فراڈ کا سراغ لگایا ہے جس میں قیمتی الیکٹرانک اشیا ء کو ڈیکلریشن جمع کرائے بغیر یا کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کیے بغیر غیر قانونی طور پر باہر نکالا جا رہا تھا۔ یہ سکینڈل ایک غیر ملکی گرائونڈ ہینڈلنگ کمپنی جو کہ اس سامان کی نگرانی پر بھی مامور تھی ، کے ملازمین کی بدعنوان درآمد کنندگان کے ساتھ ملی بھگت سے چلایا جا رہا تھا۔ کمپنی کے ملازمین جعلی دستاویزات جاری کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کا الیکٹرانک سامان ایئرپورٹ سے باہر نکالنے میں ملوث پائے گئے۔

ایف بی آر کی جانب سے جمعہ کویہاں جاری بیان کے مطابق یہ فراڈ قابل اعتماد انٹیلی جنس معلومات موصول ہونے پر منظر عام پر آیا جس کی وجہ سے کراچی ایئرپورٹ پرنگرانی سخت کر دی گئی۔ بروقت کارروائی کے نتیجے میں 10 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کی ایک کھیپ کو باہر نکالے جانے سے پہلے ضبط کر لیا گیا جس میں لیپ ٹاپس، آئی پیڈز، آئی فونز، میک بکس، پلے سٹیشنز اور میموری کارڈز شامل تھے۔ اس کے علاوہ دو مزید کھیپوں کا جعلی گیٹ پاسز کی بنیاد پر دھوکہ دہی سے کلیئر کرانے کا بھی پتہ چلا۔کلکٹریٹ آف کسٹمز ایئرپورٹ کراچی نے فوری طور پر دو ایف آئی آر درج کرائیں اور اس جرم میں ملوث کمپنی کے ملازمین کو گرفتار کر لیا۔

تحقیقات سے تصدیق ہوئی ہے کہ اس جعلی طریقہ کار سے مجموعی طور پر پانچ کھیپیں غیر قانونی طور پر ایئر پورٹ سے باہر منتقل کی گئیں۔ یہ تمام کھیپیں میسرز پیر جیلانی جنرل ٹریڈنگ ایل ایل سی دوبئی سے بھیجی گئی تھیں۔ یہ کھیپیں جوکہ دو پیلیٹس میں پیک کی گئی تھیں، جان بوجھ کر کسٹمز کے وی بوک سسٹم سے چھپائی گئیں، جس کی وجہ سے جی ڈی فائل کئے بغیر جعلی گیٹ پاسز کی مدد سے کلیئرنس ممکن بنائی گئی۔ پانچوں کھیپوں کی غیر قانونی کلیئرنس پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کی کل تخمینہ شدہ مالیت 38 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے۔کمپنی کے ملازمین نے اپنے کمپیوٹرائزڈ آئی کارگو سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے قیمتی الیکٹرانکس اشیا ء کو غیر قانونی طور پر باہر نکالنے کے لئے ایئر وے بلز چھپائے اور جعلی گیٹ پاسز جاری کیے۔

کسٹمز انویسٹی گیٹرز نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ غیر ملکی کمپنی نے بارہا درخواست کے باوجود سی سی ٹی وی فوٹیج اور اہم ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار کیا جس سے اس کی سینئر مینجمنٹ کے اس فراڈ میں ملوث ہونے کے سنگین شکوک جنم لیتے ہیں۔ایف آئی آرز درج کرائی جا چکی ہیں اور ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ چوری شدہ محصولات کی وصولی کی کوششیں جاری ہیں۔ مزید ایف آئی آرز اور گرفتاریاں بھی متوقع ہیں کیونکہ ایف بی آر اس معاملے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گا۔چیئرمین ایف بی آر اور ممبر کسٹمز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہنے پر نگرانی کرنے والے اور کسٹمز اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔ یہ کارروائی قومی محصولات کے تحفظ اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ایف بی آر کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

مزید خبریں