اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی پیر کو اجلاس کے آغاز پر یکے بعد دیگرے دوبار کورم کی نشاندہی کی گئی،پہلی بار کورم پورا نکلا جبکہ دوسری بار کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس کورم پورا ہونے تک ملتوی کر دیا گیا۔پیر کو قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن آغارفیع اللہ نے کورم کی نشاندہی کی، گنتی کرنے پر کورم پورا نکلا۔ بعدازاں دوسری بار اپوزیشن …
قومی اسمبلی اجلاس کے آغاز پر دوبار کورم کی نشاندہی، دوسری بار کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس کورم پورا ہونے تک ملتوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی پیر کو اجلاس کے آغاز پر یکے بعد دیگرے دوبار کورم کی نشاندہی کی گئی،پہلی بار کورم پورا نکلا جبکہ دوسری بار کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس کورم پورا ہونے تک ملتوی کر دیا گیا۔پیر کو قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن آغارفیع اللہ نے کورم کی نشاندہی کی، گنتی کرنے پر کورم پورا نکلا۔
بعدازاں دوسری بار اپوزیشن رکن ڈاکٹر نثار احمد نے کورم کی نشاندہی کی۔اس دوران ایم کیوایم اور مسلم لیگ ن کے رہنما اور پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے احتجاج کیا کہ ایک بار کورم کی نشاندہی ہوگئی تھی اور کورم پورا تھا، اس کے فوری بعد کورم کی پھر نشاندہی نہیں ہو سکتی۔
اس موقع پر ڈپٹی سپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے کورم کی نشاندہی سے متعلق رولز پڑھ کر سنائے کہ کورم کی نشاندہی کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے۔گنتی پر کورم پورا نہ ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے کورم پورا ہونے تک اجلاس ملتوی کر دیا۔








