جنیوا۔6اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں جبری نقل مکانی اور پناہ گزینوں کے انتظام سے متعلق اپنے مینڈیٹ کے مطابق یو این ایچ سی آر کی قابلِ ستائش خدمات کو سراہتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو جنیوا میں یو این ایچ سی آر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 76ویں اجلاس سے …
نقل مکانی سنجیدہ چیلنج ہے، عالمی برادری پناہ گزینوں کی وا پسی کے لئے یو این ایچ سی آر کی کوشش میں مدد کرے ، وفا قی وز یر انجینئر امیر مقام کا یو این ایچ سی آر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 76ویں اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
جنیوا۔6اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں جبری نقل مکانی اور پناہ گزینوں کے انتظام سے متعلق اپنے مینڈیٹ کے مطابق یو این ایچ سی آر کی قابلِ ستائش خدمات کو سراہتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو جنیوا میں یو این ایچ سی آر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 76ویں اجلاس سے خطاب کرتےہوئے کیا۔وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ پاکستان کو اس اجلاس میں شرکت پر خوشی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہائی کمشنر فیلیپو گرانڈی کو ان کی شاندار خدمات پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ،انجینئر امیر مقام نے کہا کہ نقل مکانی دنیا بھر کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنی ہوئی ہے،اس وقت دنیا بھر میں 13 کروڑ سے زائد افراد جبری طور پر بے گھر ہیں، جن کی نقل مکانی کی وجوہات میں تنازعات، ظلم و ستم، تشدد اور ماحولیاتی آفات شامل ہیں ، یہ واضح ہے کہ ان میں سے اکثر انسانی پیدا کردہ بحران ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب جبری طور پر بے گھر افراد کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وسائل تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ یو این ایچ سی آر کی اس کوشش میں مدد کرے کہ وہ پناہ گزینوں کی واپسی کو پائیدار اور قابلِ خواہش بنا سکے۔انہوں نے کہا کہ جب واپس جانے والوں کو بھرپور معاونت کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے تو وہ اپنی معاشروں کی بحالی اور ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ یو این ایچ سی آر کو مناسب، پیش گوئی کے قابل اور لچکدار وسائل کی فراہمی نہایت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے میں چار ملین سے زیادہ افغان باشندوں کی میزبانی کی ہے، جو دنیا کے طویل ترین اور بڑے پناہ گزین بحرانوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ باوجود اندرونی مسائل کے جن میں معاشی دباؤ، سکیورٹی چیلنجز اور عوامی خدمات پر بوجھ شامل ہیں ،پاکستان نے انسانی ہمدردی کے اصولوں کو برقرار رکھا، اور حتی المقدور تعلیم، صحت کی سہولیات، روزگار اور تحفظ فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بار بار ماحولیاتی آفات کا سامنا کرتا رہا ہے، اور اس سال کے تباہ کن سیلابوں نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا اور بھاری معاشی نقصان کا باعث بنے، جن کے دور رس سماجی، معاشی اور انسانی اثرات مرتب ہوئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر یو این ایچ سی آر کے کلائمیٹ ریزیلینٹ فنڈ اور دیگر مالیاتی میکانزم کے فوری آغاز کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ ان ممالک کی مدد کی جا سکے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مسلسل برسرِپیکار ہے، جس سے ہمارے عوام اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں جبکہ اس جنگ میں پاکستان کو 150 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم افغان پناہ گزینوں کی محفوظ اور باعزت واپسی کو یقینی بنائیں۔پائیدار واپسی کے لیے ضروری ہے کہ پناہ گزینوں کے ممالک میں سرمایہ کاری کی جائےجس میں امن، استحکام، تعلیمی ادارے، صحت کی سہولیات، اور روزگار کے مواقع شامل ہیں تاکہ واپسی ایک قابلِ عمل حقیقت بن سکے۔
انہوں نے کہا کہ بار بار کی اپیلوں کے باوجود میزبان ممالک بشمول پاکستان کے لیے پیش گوئی کے قابل اور کثیر سالہ فنڈنگ عطیہ دہندگان کی تاخیر کے باعث ابھی تک مکمل طور پر فراہم نہیں ہو سکی۔ اقوام متحدہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر انجینئر امیر مقام نے عالمی سطح پر ایک "انسانی ہمدردی پر مبنی ری سیٹ” کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اس ضمن میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ پائیدار اور باعزت حل تلاش کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی برادری کے ساتھ مل کر انسانی بحرانوں کے پائیدار حل تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔خطاب کے اختتام پر انہوں نے تین بنیادی نکات پر زور دیا جن میں پناہ گزینوں کے ممالک میں استحکام اور انضمام کے لیے فوری سرمایہ کاری ،میزبان کمیونٹیز پر بوجھ کم کرنے کے لیے بروقت اور پیش گوئی کے قابل بین الاقوامی معاونت،پناہ گزینوں کی تیسرے ممالک میں جلد از جلد آبادکاری شامل ہیں ، انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام کو شدید بربریت کا سامنا ہے، عالمی برادری اس کا نوٹس لے۔








