نیب اور ملائیشین انسداد بدعنوانی کمیشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) اور ملائیشیا کے انسداد بدعنوانی کمیشن (ایم اے سی سی) کے درمیان بدعنوانی کے خاتمے اور اس کی روک تھام کے لیے تعاون پر مبنی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیئے گئے۔ ترجمان نیب کی جانب سے منگل کو جاری اعلامیہ کے مطابق یہ معاہدہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ملائیشیا کے تین روزہ سرکاری دورے کے دوران پتراجایا …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):قومی احتساب بیورو (نیب) اور ملائیشیا کے انسداد بدعنوانی کمیشن (ایم اے سی سی) کے درمیان بدعنوانی کے خاتمے اور اس کی روک تھام کے لیے تعاون پر مبنی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیئے گئے۔ ترجمان نیب کی جانب سے منگل کو جاری اعلامیہ کے مطابق یہ معاہدہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ملائیشیا کے تین روزہ سرکاری دورے کے دوران پتراجایا کوالالمپور میں ایک خصوصی تقریب میں طے پایا۔ تقریب میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم بھی موجود تھے۔مفاہمتی یادداشت پر نیب کے ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصر اور ملائیشین انسداد بدعنوانی کمیشن کے چیف کمشنر اعظم بن باکی نے دستخط کیے۔اس معاہدے کامقصد دونوں ممالک کے انسداد بدعنوانی اداروں کے مابین باہمی تعاون، مشترکہ صلاحیت سازی، تکنیکی معاونت اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے تاکہ بدعنوانی کے خلاف موثر کارروائی اور اس کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک قانون سازی، اصلاحات، عوامی آگاہی مہمات اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں بھی تعاون کریں گے۔ اس سے انسداد بدعنوانی کے لیے عوامی شعور میں اضافہ، مہارتوں کا تبادلہ اور سرکاری اداروں کی استعداد کار میں بہتری آئے گی۔معاہدے کے ذریعے سرحد پار بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور بین الاقوامی مالیاتی جرائم سے نمٹنے میں مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔ یہ ایم او یو غیر قانونی مالیاتی بہائو کی روک تھام، قانونی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی معاہدات سے ہم آہنگی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا دونوں اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن (یو این سی اے سی) کے دستخط کنندہ ممالک ہیں اور یہ معاہدہ شفافیت، احتساب اور دیانت داری کے فروغ کے حوالے سے دونوں ممالک کے عزم کی تجدید ہے۔یہ معاہدہ ان چھ اہم دوطرفہ معاہدوں میں شامل ہے جو وزیر اعظم کے حالیہ ملائیشیا کے دورے کے دوران طے پائے۔