نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ متعدد چیلنجز کے باوجود مئی 2024ء میں ٹنلز کی بندش سے قبل اپنی پیداواری لاگت پوری کر چکا

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ متعدد چیلنجوں کے باوجود مئی 2024ء میں ٹنلز کی بندش سے قبل اپنی پیداواری لاگت پوری کر چکا ہے، اس دورانیہ میں اس منصوبے سے 182 ارب روپے کی آمدن ہوئی۔وزارت کے ذرائع کے مطابق اس منصوبے سے مئی 2024ء تک تقریباً 20 ارب تین کروڑ یونٹس پیدا ہوئے، منظور شدہ ٹیرف ریٹ 9 روپے 81 پیسے فی کلو واٹ آور …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ متعدد چیلنجوں کے باوجود مئی 2024ء میں ٹنلز کی بندش سے قبل اپنی پیداواری لاگت پوری کر چکا ہے، اس دورانیہ میں اس منصوبے سے 182 ارب روپے کی آمدن ہوئی۔وزارت کے ذرائع کے مطابق اس منصوبے سے مئی 2024ء تک تقریباً 20 ارب تین کروڑ یونٹس پیدا ہوئے، منظور شدہ ٹیرف ریٹ 9 روپے 81 پیسے فی کلو واٹ آور کے مطابق منصوبے سے 182 ارب روپے کی آمدن ہوئی جبکہ اطلاق کردہ ٹیرف ریٹ 13 روپے 3 پیسے فی کلو واٹ آور کے حساب سے حاصل شدہ آمدن تقریباً 262 ارب روپے ہے، اس پیداوار کے ذریعے حاصل شدہ فوائد کئی زیادہ ہیں۔

جولائی 2022ء میں ٹی آر ٹی کے انہدام کے واقعہ کے بعد خامیوں اور کوتاہیوں کی تحقیقات کے لئے وزیر اعظم کی 20 مئی 2024ء کو قائم کمیٹی نے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ حکومت کو جمع کرادی ہے۔سرنگ کے انہدام کی وجواہات پر جوابدہی کے لئے ایک کمیٹی 21 مئی 2025ء کو بنائی گئی ہے۔اس کے علاوہ چیئرمین واپڈا بی اوڈی،نیلم جہلم ہائیڈرو پاور جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی نے کنٹریکٹر کے ساتھ تمام تنازعات کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں ٹھیکیدار سے کی جانے والی ریکوری بھی شامل ہے۔کمیٹی نے کارروائی مکمل کرلی ہے اور کمیٹی کی سفارشات کے مطابق معاہدہ بند کردیا جائے گا۔

سرنگ گرنے سے اس وقت یہ منصوبہ غیرفعال ہے، اس کی بحالی کے لئے پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے جس کی جانچ پڑتال جاری ہے۔بحالی کے کام بین الاقوامی ماہرین کی رہنمائی میں کئے جائیں گے تاکہ بجلی کی پائیدار پیداوار کو یقینی بنایا جاسکے۔\