سپریم کورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کیس میں تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔منگل کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس امین الدین نے تحریر کیا جبکہ فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے جسٹس شاہد بلال نے پانچ صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی تحریر کیا ہے۔جسٹس شاہد بلال نے اپنے اضافی نوٹ میں قرار دیا کہ موجودہ کیس میں …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کیس میں تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔منگل کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس امین الدین نے تحریر کیا جبکہ فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے جسٹس شاہد بلال نے پانچ صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی تحریر کیا ہے۔جسٹس شاہد بلال نے اپنے اضافی نوٹ میں قرار دیا کہ موجودہ کیس میں بینچ نے اعتراضات کے فیصلے کیے بغیر کارروائی آگے بڑھائی، جو قانونی طور پر درست نہیں تھی۔ ان کے مطابق اعتراضات کے فیصلے کے بغیر کارروائی چلانے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔جسٹس شاہد بلال نے مزید کہا کہ اعتراضات کو حتمی فیصلے کے ساتھ نمٹانا قانون کے مطابق نہیں اور ہائیکورٹ نے اس کیس میں مقررہ قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ عدالت نے درخواست گزار کی قانونی حیثیت اور اعتراضات کے خاتمے کے حوالے سے کوئی واضح بنیاد فراہم نہیں کی اور بغیر کسی ٹھوس وجہ کے کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔جسٹس شاہد بلال کے مطابق، جسٹس جہانگیری کو عدالتی امور سے روکنے سے پہلے انہیں سنا بھی نہیں گیا، جو اصول انصاف کے منافی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں توقع ظاہر کی ہے کہ ہائیکورٹ پہلے آفس اعتراضات پر فیصلہ کرے گی اور مقدمے کی سماعت قانون کے مطابق آگے بڑھائے گی۔ دورانِ سماعت عدالت نے درخواست گزار سے عدالتی حکم کے دفاع کے بارے میں سوال کیا، جس پر درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے "ملک اسد کیس” کا حوالہ دیا تاہم سپریم کورٹ کے مطابق درخواست گزار فیصلہ پڑھنے کے بعد جسٹس جہانگیری کو کام سے روکنے کے حکم کا دفاع نہ کر سکا۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جج سے متعلق معلومات حاصل کرنے سے متعلق معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ پہلے سے موجود ہے۔