اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ نفسیات کے زیر اہتمام ذہنی صحت کے ہفتہ کے سلسلے میں ’’آفات اور ہنگامی حالات میں ذہنی صحت‘‘ کے عنوان سے ایک اہم پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی جامعہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد تھے جنہوں نے شعبہ نفسیات کی کاوشوں کو سراہا اور شرکا میں اعزازی شیلڈز بھی تقسیم کیں۔پینل …
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے زیر اہتمام ذہنی صحت کے ہفتہ کے سلسلے میں ’’آفات اور ہنگامی حالات میں ذہنی صحت‘‘کے عنوان سے پینل ڈسکشن کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ نفسیات کے زیر اہتمام ذہنی صحت کے ہفتہ کے سلسلے میں ’’آفات اور ہنگامی حالات میں ذہنی صحت‘‘ کے عنوان سے ایک اہم پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی جامعہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد تھے جنہوں نے شعبہ نفسیات کی کاوشوں کو سراہا اور شرکا میں اعزازی شیلڈز بھی تقسیم کیں۔پینل میں ممتاز ماہرین تعلیم اور ماہرین نفسیات شامل تھے جن میں ڈاکٹر منظور خان آفریدی، ڈاکٹر نازیہ اقبال، ڈاکٹر مظہر اقبال بھٹی، ڈاکٹر رخسانہ طارق، ڈاکٹر کہکشاں اروج، ڈاکٹر مامونہ اسماعیل، ڈاکٹر رابعہ مشتاق، ڈاکٹر مسرت جبین خان اور ڈاکٹر فریال عنبرین شامل تھے۔
پروگرام کی میزبانی ڈاکٹر آمنہ حسن نے کی۔مقررین نے قدرتی آفات، جنگ، وبائی امراض اور جبری ہجرت جیسے حالات میں پیش آنے والے ذہنی و نفسیاتی مسائل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں متاثرہ افراد کو طویل المدتی ذہنی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ پینل نے خاندانی نظام، والدین کے ذہنی دبائو اور میاں بیوی کے تعلقات پر بھی ان بحرانوں کے اثرات پر گفتگو کی اور خاندان پر مبنی مشاورت اور کمیونٹی ری ہیبلیٹیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ اسلامی نقطہ نظر کو شامل کرتے ہوئے مقررین نے صبر، ہمدردی اور باہمی تعاون کو ذہنی صحت کی بحالی کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
ڈاکٹر منظور آفریدی نے عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون اور ذہنی صحت کے فروغ کے لیے بین الاقوامی سفارتی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر رخسانہ طارق نے ماحولیاتی تبدیلی اور ذہنی صحت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے بین المضامینی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ذہنی صحت کو قومی و بین الاقوامی آفات سے نمٹنے کی پالیسیوں میں شامل کیا جانا چاہیے اور نوجوان ماہرین نفسیات کو تحقیق، عملی اقدامات اور امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔








