سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاس

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاس سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔کمیٹی کو شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے تحت اسلام آباد ڈینٹل ہسپتال کے موجودہ انتظامی کنٹرول اور پمز ایکٹ 2023 کی دفعات کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس کے تحت پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو انتظامی اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاس سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔کمیٹی کو شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے تحت اسلام آباد ڈینٹل ہسپتال کے موجودہ انتظامی کنٹرول اور پمز ایکٹ 2023 کی دفعات کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس کے تحت پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو انتظامی اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس معاملے کی جانچ کے لئے ایک داخلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز سید مصطفی کمال نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وزارت کی داخلی کمیٹی کا اجلاس کل منعقد ہو گا جس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ آیا ایس زیڈ اے بی ایم یو پمز کے انتظامی کنٹرول میں رہے گا یا اس وقت اس کی نگرانی کرنے والے ادارے کے پاس رہے گا۔

اجلاس کے نتائج کمیٹی کے ساتھ آئندہ اجلاس میں شیئر کیے جائیں گے۔کمیٹی نے این ایچ ایس آر اینڈ سی کی وزارت کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں دواؤں کی قیمتوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کی جائے۔ وزیر قومی صحت نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کا معاملہ انتہائی حساس ہے۔ انہوں نے چیئرمین کمیٹی سے درخواست کی کہ کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس میں اس معاملے پر الگ سے تبادلہ خیال کیا جائے۔

چیئرمین کمیٹی نے ان سے اتفاق کیا۔وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ سال وزارت کا بجٹ 21 ارب روپے تھا جو اب کم ہو کر 14 ارب روپے رہ گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اس سال کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا ہے اگرچہ 12 نئے منصوبے تجویز کیے گئے تھے لیکن ان کے لئے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے گئے جس کے نتیجے میں وہ رک گئے اور تمام جاری منصوبوں کو منظور شدہ بجٹ کے تحت مکمل کیا جا رہا ہے۔

اجلاس کے دوران سینیٹر انوشہ رحمان نے عوام کے لیے طبی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے جامع ہیلتھ کیئر کارڈ متعارف کرا کر ٹیکس دہندگان کو ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو بتایا کہ اگرچہ کچھ صوبوں میں ہیلتھ کیئر کارڈ کی سہولت موجود ہے لیکن دیگر صوبوں میں دستیاب نہیں ہے۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ نے تھرپارکر میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کی ذمہ داری بھی اٹھائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ سندھ میں ہیلتھ کیئر کارڈ کا نظام ابھی تک متعارف نہیں کرایا گیا ہے لیکن صوبے کے 16 ہسپتال پہلے ہی عوام کو مفت علاج کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔سینیٹر انوشہ رحمان نے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں کے اندر انتظامی عہدوں کے لیے صرف جدوجہد کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کا جائزہ لیا جانا چاہیے کہ ڈاکٹرز کس طرح انتظامی عہدوں پر فائز ہیں جبکہ ڈاکٹرز کو انتظامی کرداروں کے لیے نہیں بلکہ مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کے لیے تعینات کیا جانا چاہیے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ڈاکٹروں کے رویے کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور نشاندہی کی کہ میڈیکو لیگل آفیسرز اکثر ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ پمز میں خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر سے آنے والے مریضوں کی بھرمار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہسپتال اصل میں تین ہزار مریضوں کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن اب دس ہزار مریضوں کو علاج کی سہولت دی جا رہی ہے، مریضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے مسائل کے حوالہ سے کوئی قابل عمل حل تلاش کرنا ہوگا۔سینیٹر محمد ہمایوں مہمند نے کہا کہ معروف ڈاکٹرز ہیلتھ کارڈ سسٹم کے مخالف ہیں کیونکہ ان کی مشاورت کی فیس انتہائی زیادہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نصف سے زائد کنسلٹنٹس باقاعدگی سے ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوتے اور تجویز دی کہ پمز کو کسی اور انتظامی ادارے کے حوالے کیا جائے کیونکہ اس کیلئے سالانہ چھ ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔سینیٹر انوشہ رحمان نے مزید کہا کہ 50 سے 60 فیصد ڈاکٹر بیرون ملک منتقل ہوتے ہیں اور پاکستان قومی صحت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ڈاکٹر تیار نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ڈاکٹر بن جاتے ہیں وہ بھی بالآخر ملک چھوڑ دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر پاکستانی ڈاکٹر آئرلینڈ منتقل ہو رہے ہیں جہاں انہیں ماہانہ تقریبا 3000 یورو تنخواہ ملتی ہے۔وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں ہر سال 22 ہزار ڈاکٹرز فارغ التحصیل ہوتے ہیں اور خواتین گریجویٹس کی ایک بڑی تعداد ڈگریاں مکمل کرنے کے بعد میڈیکل پریکٹس جاری نہیں رکھتی۔

سینیٹر انوشہ رحمان نے اس بات پر زور دیا کہ اس تعداد کو 22 ہزار سے بڑھا کر 44 ہزار کیا جائے کیونکہ یہ تعداد 25 کروڑ کی آبادی کے لیے بہت کم ہے۔کمیٹی نے جمالیاتی معالجین کے مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں اہلیت کے معیار، تربیت کی ضروریات، اور ریگولیٹری فریم ورک شامل ہیں۔

تفصیلی بحث کے بعد چیئرمین کمیٹی نے سفارش کی کہ سینیٹرز ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور اور محمد ہمایوں مہمند کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے بورڈ میں شامل کیا جائے تاکہ جمالیاتی ادویات سے متعلق فیصلوں میں ماہرین کی رائے اور نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں سینیٹرز سید مسرور احسن، محمد ہمایوں مہمند، دلاور خان، انوشہ رحمان احمد خان، ثمینہ ممتاز زہری، ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور، وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن سید مصطفیٰ کمال اور وزارت کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔