وفاقی سیکرٹری وزارت امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران کی زیر صدارت یوم سیاہ کی تیاریوں کے سلسلے میں اہم اجلاس

اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):وفاقی سیکرٹری ظفر حسن کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیر کونسل سیکریٹریٹ میں جمعرات کو اہم اجلاس منعقد ہوا جس 27 اکتوبر کو اس سال یوم سیاہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزارت امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران کے زیرِ اہتمام اجلاس میں مختلف وفاقی وزارتوں، صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نمائندگان نے شرکت …

اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):وفاقی سیکرٹری ظفر حسن کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیر کونسل سیکریٹریٹ میں جمعرات کو اہم اجلاس منعقد ہوا جس 27 اکتوبر کو اس سال یوم سیاہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزارت امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران کے زیرِ اہتمام اجلاس میں مختلف وفاقی وزارتوں، صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین الطاف احمد وانی اورشیخ عبد المتین نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد 27 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کے لیے انتظامات کا جائزہ لینا تھا تاکہ مقبوضہ جموں کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔اس موقع پر وفاقی سیکرٹری نے شرکا کو تفصیل سے بریفنگ دی اور واضح کیا کہ اس سال یوم سیاہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ موثر انداز میں منایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور لداخ میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور رپورٹس اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ بھارت مقبوضہ علاقوں میں ظلم کی نئی داستانیں رقم کر رہا ہے ۔

وفاقی سیکرٹری نے مزید کہا کہ حکومتِ پاکستان نے آزاد کشمیر کے حوالے سے اہم اقدامات کیے ہیں جو قابل تحسین ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا عملی مظاہرہ کرے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یومِ سیاہ کے موقع پر ملک بھر میں سیمینارز، ریلیاں اور دیگر تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

اس دن کی مناسبت سے بین الاقوامی برادری کو بھی بھارت کے مظالم سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے گی۔یاد رہے کہ ہر سال 27 اکتوبر کو پاکستان بھر میں یومِ سیاہ منایا جاتا ہے تاکہ اقوامِ عالم کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔

 

مزید خبریں