چیف جسٹس آف پاکستان کا خیبرپختونخوا کے شمالی ضلع اپر چترال کا تاریخی دورہ

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے خیبرپختونخوا کے انتہائی شمالی ضلع اپر چترال کا تاریخی دورہ کیا۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق گزشتہ روز چیف جسٹس نے بونی میں عدالتی افسران اور وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بونی کو اس دورے کے لیے اس وجہ سے منتخب کیا گیا کہ یہ پاکستان کے سب سے دُور افتادہ علاقوں …

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے خیبرپختونخوا کے انتہائی شمالی ضلع اپر چترال کا تاریخی دورہ کیا۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق گزشتہ روز چیف جسٹس نے بونی میں عدالتی افسران اور وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بونی کو اس دورے کے لیے اس وجہ سے منتخب کیا گیا کہ یہ پاکستان کے سب سے دُور افتادہ علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں عوام اور Access to Justice Development Fund کے درمیان واضح خلا محسوس کیا گیاجسے پُر کرنا عدلیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔اپر اور لوئر چترال کے عدالتی افسران اور بار ایسوسی ایشنز سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس نے مشکل حالات میں ان کی خدمات اور عزم کو سراہا۔ اُنہوں نے کہا کہ بینچ اور بار انصاف کے نظام میں مساوی شراکت دار ہیں اور انصاف کی فراہمی کے لیے دیانت، باہمی احترام اور احتساب عدلیہ کی آزادی کے بنیادی ستون ہیں۔

اُنہوں نے ضلعی عدلیہ کو ادارہ جاتی سطح پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔چیف جسٹس نے بتایا کہ Access to Justice Development Fund اور وفاقی حکومت کے تعاون سے 3.3 ارب روپے سے زائد کی رقم عدالتوں کے انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے مختص کی گئی ہے۔ یہ منصوبے اگست 2026 تک مکمل کیے جائیں گے۔منصوبوں میں شمسی توانائی سے چلنے والی عدالتیں، ای لائبریریز، واٹر فلٹریشن پلانٹس، خواتین کے لیے سہولت مراکز اور غیر نمائندہ درخواست گزاروں کے لیے قانونی امداد شامل ہیں۔ یہ اصلاحات نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے تحت عمل میں لائی جا رہی ہیں جس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ ضلعی عدلیہ کے لیے پرفارمنس ایویلیوایشن سسٹم، بھرتی و تربیت کے معیاری نظام، ڈسٹرکٹ جوڈیشری پالیسی فورمز، یکساں سروس اسٹرکچر اور ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبے بھی زیرِ عمل ہیں، جو وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر عدالتی تعاون کے فروغ کے لیے چین کی سپریم پیپلز کورٹ اور ترکیہ کی آئینی عدالت کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے عدلیہ کی آزادی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر عدالتی افسر کو قانون کے مطابق فرائض انجام دینے میں مکمل ادارہ جاتی حمایت حاصل ہوگی اور انہیں کسی غیر ضروری دباؤ سے محفوظ رکھا جائے گا۔ اس ضمن میں ایک ادارہ جاتی ردعمل کا باضابطہ نظام بھی نافذ کیا جا چکا ہے۔دورے کے دوران چیف جسٹس نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے بونی میں قائم کردہ ویڈیو لنک سہولت کا افتتاح کیا۔

بعد ازاں ،انہوں نے لینگلینڈز اسکول اینڈ کالج کا بھی دورہ کیا اور اس کے تعلیم اور سماجی خدمت میں کردار کو سراہا۔ چیف جسٹس کا یہ دورہ عدلیہ کے اس عزم کی علامت ہے کہ انصاف کو عوام کے قریب لایا جائے اور پاکستان کے سب سے دور دراز اضلاع تک عدالتی موجودگی اور مساوی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔