ایس ای سی پی کا ’’پاکستان میں تکافل کا مستقبل‘‘ کے موضوع پر گول میز کانفرنس کا انعقاد

اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)نے کراچی میں ’’پاکستان میں تکافل کا مستقبل‘‘ کے عنوان پر ایک گول میز مباحثے کا اہتمام کیا۔ یہ کانفرنس ایس ای سی پی کے ’’انشورڈ پاکستان‘‘ کے پانچ سالہ سٹریٹجک پلان کا حصہ تھی۔ کانفرنس میں شریعہ ایڈوائزرز، بین الاقوامی انشورنس بروکرز اور انشورنس صنعت کے نمائندے شریک ہوئے۔ کانفرنس کا مقصد تکافل کے شعبے کی …

اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)نے کراچی میں ’’پاکستان میں تکافل کا مستقبل‘‘ کے عنوان پر ایک گول میز مباحثے کا اہتمام کیا۔ یہ کانفرنس ایس ای سی پی کے ’’انشورڈ پاکستان‘‘ کے پانچ سالہ سٹریٹجک پلان کا حصہ تھی۔

کانفرنس میں شریعہ ایڈوائزرز، بین الاقوامی انشورنس بروکرز اور انشورنس صنعت کے نمائندے شریک ہوئے۔ کانفرنس کا مقصد تکافل کے شعبے کی ترقی کو فروغ دینا تھا۔ یہ اقدام کمشنر مجتبیٰ احمد لودھی کی رہنمائی میں ایس ای سی پی کے انشورنس ڈویژن کی جانب سے شروع کیا گیا۔ اس کا مقصد تکافل صنعت کا مارکیٹ شیئر بڑھانا، شریعہ کے مطابق مالی شمولیت کو فروغ دینا اور ملکی معیشت و ریگولیٹری اصلاحات میں بہتری لانا تھا۔اپنے خطاب میں کمشنر انشورنس مجتبیٰ احمد لودھی نے شرکاء کی بھرپور شمولیت کو سراہا اور تکافل کے فروغ میں مشترکہ ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ ایس ای سی پی ایک آسان اور معاون ریگولیٹری ماحول فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر عملدرآمد کے لئے صنعت کو مکمل تعاون فراہم کرے گا۔ایس ای سی پی کے شریعہ ایڈوائزری بورڈ کے رکن مفتی احسان وقار نے حالیہ آئینی اصلاحات کی روشنی میں شریعت کے مطابق انشورنس کی طرف منتقلی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے صنعت کے اہم چیلنجز کا خاکہ پیش کیا اور ایس ای سی پی اور مارکیٹ کے شرکاء دونوں پر زور دیا کہ وہ اس منتقلی کے لئے واضح رہنما اصول تیار کرنے میں مل کر کام کریں۔ایس ای سی پی کی ٹیم نے تکافل شعبے کے اہم چیلنجز اور اس کی سٹریٹجک ترجیحات پر روشنی ڈالی، ساتھ ہی مالیاتی صنعت میں اسلامی مالیات کے فروغ کے لئے کی جانے والی وسیع کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نمائندوں نے ممکنہ مسائل کی نشاندہی کی جن میں ری تکافل کی محدود دستیابی، روایتی انشورنس مصنوعات کی تبدیلی اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ریگولیٹر اور حکومت کی معاونت کی ضرورت شامل تھی۔بین الاقوامی انشورنس بروکرز کے نمائندوں نے عالمی ری انشورنس اور ری تکافل کے رجحانات پر قیمتی رائے پیش کیں۔ انہوں نے پاکستان کے تکافل شعبے کے لئے چیلنجز اور مواقع پر روشنی ڈالی تاکہ اسے بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

گول میز اجلاس میں شرکاء نے آئندہ کے لائحہ عمل پر اپنی رائےپیش کیں۔ گفتگو کا مرکز ری تکافل کی محدود استعداد کے مسائل کا حل، جدت کو فروغ دینا، صنعت کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا اور مارکیٹ میں بہتر تعاون کو آگے بڑھانا تھا۔ صنعت کے نمائندوں نے ایس ای سی پی کے فعال کردار کو سراہا اور تکافل صنعت کی مشترکہ ترقی کے عزم کا اظہار کیا، تاکہ ’’مکمل بیمہ شدہ پاکستان‘‘ کے وژن کو حقیقت بنایا جا سکے۔