اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران ٹوبیکو کمپنیوں کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر سماعت پیر 20اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ۔سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس سے متعلق مختلف درخواستوں پر جمعہ کو آئینی بینچ نے سماعت کی۔ پانچ رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، …
سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت، ٹوبیکو کمپنیوں کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پرسماعت پیر تک ملتوی
اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران ٹوبیکو کمپنیوں کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر سماعت پیر 20اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ۔سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس سے متعلق مختلف درخواستوں پر جمعہ کو آئینی بینچ نے سماعت کی۔ پانچ رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ میں شامل تھے۔
درخواست گزاران کی جانب سے وکیل اعجاز احمد زاہد نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ مالیاتی نظام میں ونڈ فال ٹیکس لینا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں دس ٹوبیکو کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں، ایک سگریٹ کا پیکٹ جو 77 روپے کا ہے اس پر 44 روپے ٹیکس عائد ہےجبکہ 33 روپے بچت بچتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 173 روپے کی ڈبی پر بھی 44 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔وکیل اعجاز احمد نے مؤقف اپنایا کہ پاکستان ٹوبیکو کمپنی مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرتی ہے اور ایف بی آر کے وکلاء نے اپنے دلائل میں پیش کردہ جدول میں اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے۔
دلائل کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ “آپ کے پروڈکٹ کو استعمال کرنے والے مخصوص لوگ ہیں جو اچانک نہیں بڑھتے، آپ سارا ٹیکس خود نہیں دے رہے، جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں وہ بھی ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ “اگر سگریٹ افغانستان کو برآمد ہو رہی ہیں تو پھر کیا ہوگا؟” جس پر وکیل نے جواب دیا کہ “اگر کسی اور ملک میں سگریٹ اسمگل ہوتی ہیں تو میں ذمہ دار نہیں ہوں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ مال ایکسائز افسر کے سامنے باہر جاتا ہے، مالیاتی خسارہ ختم کرنا ہے تو وہاں سے کریں جہاں سے لیکیج ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے دوران سماعت کہا کہ ویسے آپ کی کمپنی کو داد دینی پڑے گی، اتنے کم منافع میں تین سو ملین روپے کما رہے ہیں، چھوٹے مارجن سے اتنا کمانا واقعی قابل تعریف ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی بینچ کو ایسے تمام مقدمات دیکھنے ہیں، ہم آئینی سوال کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔بعدازاں آئینی بنچ نے وکیلِ درخواست گزار کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کی مزید سماعت پیر 20اکتوبر تک ملتوی کر دی۔









