اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):پبلک پروکیورمنٹ ریگولٹری اتھارٹی اور ڈیپارٹمنٹ آف آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے سرکاری خریداری میں شفافیت، احتساب اور بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی اور دھوکہ دہی کے خلاف مؤثرنظام بنانے کیلئے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ اس ایم او یو کے تحت دونوں ادارے پیپرا کے ڈیجیٹل پروکیورمنٹ پلیٹ فارم یعنی ای پیڈز کے ذریعے کی جانے والی خریداریوں …
پیپرا اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے مابین سرکاری خریداری میں شفافیت و احتساب کو فروغ دینے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

مزید خبریں
اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):پبلک پروکیورمنٹ ریگولٹری اتھارٹی اور ڈیپارٹمنٹ آف آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے سرکاری خریداری میں شفافیت، احتساب اور بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی اور دھوکہ دہی کے خلاف مؤثرنظام بنانے کیلئے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ اس ایم او یو کے تحت دونوں ادارے پیپرا کے ڈیجیٹل پروکیورمنٹ پلیٹ فارم یعنی ای پیڈز کے ذریعے کی جانے والی خریداریوں سے متعلق تعاون اور معلومات کے تبادلے کا نظام قائم کریں گے تاکہ سرکاری خریداری کے عمل میں دیانت داری اور فنڈز کے بہترین استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
منیجنگ ڈائریکٹر پیپرا حسنات احمد قریشی، ارم انجم خان، ایڈیشنل آڈیٹر جنرل (ہیڈکوارٹرز)، فضا پرویز افضال ڈپٹی آڈیٹر جنرل کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پرپیپرا کی جانب سے شیخ افضال رضا پروجیکٹ ڈائریکٹر ای پیڈز اور میاں افتخار الدین ڈائریکٹر سپشل سیکٹر آڈٹ، آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے دستخط کئے۔معاہدے کے مطابق ای پیڈز اور آڈٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے مابین ایک ربط قائم کیا جائے گا تاکہ خریداری کے ڈیٹا تک رسائی سہل بنائی جاسکے جس سے ڈیسک آڈٹ اور تجزیاتی عمل کو تقویت ملے گی۔
مزید برآں خریداری میں بدعنوانی اور دھوکہ دہی کے انسداد کے لئے باہمی معلوماتی تبادلے پر مبنی ایک مؤثر نظام تشکیل دیا جائے گا۔فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ خریداری کرنے والے اداروں اور بولی دہندگان کے لئے رہنما اصول تیار کریں گے تاکہ بدعنوانی کی نشاندہی اور اس کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پالیسی اصلاحات کے ذریعے احتسابی نظام کو مزید مضبوط بنانے، ڈیٹا کے اندراج کی درستگی کو یقینی بنانے اور حساس معلومات کو غیر مجاز رسائی یا غلط استعمال سے محفوظ رکھنے کے لئے سخت حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔
سرکاری خریداری میں بدعنوانی کے انسداد اور شفافیت کے فروغ کے لئے دونوں ادارے مشترکہ تربیتی پروگرامز، متعلقہ اداروں کے ساتھ روابط، ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کریں گے۔ اس کے علاوہ خریداری کرنے والے اداروں کو درپیش چیلنجز کے مطابق تربیتی مواد اور نصاب بھی تیار کیا جائے گا۔








