سید رفیع اللہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کا اجلاس

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کا اجلاس سید رفیع اللہ کی زیر صدارت جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں ورکرز ویلفیئر فنڈ(ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی جانب سے ایک جامع بریفنگ پر غور کیا گیا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ارکان کمیٹی نے پریزنٹیشن میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے بیان کردہ ہاؤسنگ، تعلیم، …

اسلام آباد۔17اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کا اجلاس سید رفیع اللہ کی زیر صدارت جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں ورکرز ویلفیئر فنڈ(ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی جانب سے ایک جامع بریفنگ پر غور کیا گیا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ارکان کمیٹی نے پریزنٹیشن میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے بیان کردہ ہاؤسنگ، تعلیم، صحت اور گرانٹ پروگرام کو سراہا تاہم پریزنٹیشن اور آن دی گراؤنڈ ڈیلیوری کے درمیان فرق کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ وزارت نے تصدیق کی کہ حالیہ برسوں میں وصولیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے تاہم کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ انڈرلائن اعداد و شمار کو قبول کئے جانے سے پہلے آڈٹ شدہ کھاتوں اور لیجر مصالحت کے ذریعے درست کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی نے آئینی اور بین الحکومتی معاملات پر 18ویں ترمیم کے بعد کی منتقلی سے پیدا ہونے والے متضاد انتظامات کو نوٹ کیا۔ وزارت سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل نے وضاحت کی کہ ٹرانس نیشنل وصولیاں وفاق کے پاس رہتی ہیں جبکہ صوبوں پر مبنی وصولیاں اب صوبائی ورکرز ویلفیئر بورڈز کے زیر انتظام ہیں اور یہ کہ کئی معاملات مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) کے سامنے زیر التوا ہیں۔

کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایک حتمی سیاسی اور انتظامی فیصلہ اب ضروری ہے۔ انہوں نے  باضابطہ طور پر کہا کہ سی سی آئی ورکرز ویلفیئر فنڈ کو متاثر کرنے والے زیر التوا قانونی اور آپریشنل سوالات کو حل کرے جبکہ وزارت کو ہدایت کی کہ وہ سی سی آئی کی بات چیت اور کسی بھی قانونی رائے کا مکمل ریکارڈ فراہم کرے۔ کمیٹی نے ڈبلیو ڈبلیو ایف کو بڑے منصوبوں کے لئے مکمل ڈوزیئر تیار کرنے کی ہدایت کی بالخصوص زون-V ہاؤسنگ سکیم پر زور دیتے ہوئے جسے ’’الاٹمنٹ کے لئے تیار‘‘کے طور پر بیان کیا گیا ہے جبکہ الاٹمنٹ، فائدہ اٹھانے والوں کی فہرستوں اور طریقہ کار کی بے ضابطگیوں کے سلسلے میں کی گئی کسی بھی تادیبی یا قانونی کارروائی کے دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ چیئرمین کمیٹی سید رفیع اللہ نے کہا کہ اگر آپ کے ہسپتال اتنے اچھے ہیں تو ڈبلیو ڈبلیو ایف بورڈ کے اراکین شفا جیسے نجی ہسپتالوں میں کیوں جاتے ہیں؟۔ اس تبصرہ کو کمیٹی کے اصرار کی علامت کے طور پر لیا گیا تھا کہ عوامی فائدے کے دستاویزی دعوے زمینی حقیقت سے مماثل ہونے چاہئیں۔ کمیٹی نے ڈبلیو ڈبلیو ایف کو ایف-6 دفتر کی تعمیرنو اور روات اراضی منصوبے کی تفصیلات، خیبرپختونخوا میں ڈبلیو ڈبلیو ایف سکولوں کی حیثیت (بشمول اساتذہ اور عملے کے روسٹرز)

کوئلے کی کان کے کارکنوں کو فراہم کی گئی امداد،  فنڈ کی سرمایہ کاری کی پالیسی اور حالیہ منافع، اثاثوں و ملکیت دیکھ بھال کی پالیسیوں کی مکمل انوینٹری بارے مخصوص معلومات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔کمیٹی نے سختی سے سفارش کی کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف ) کے ملازمین کو بھی وہی سہولیات فراہم کی جائیں جو اس وقت ڈبلیو ڈبلیو ایف  کے تحت کارکنوں کو دی گئی ہیں۔ انہوں نے کارکنوں کی صحت اور بہبود کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ کارکنوں کے لئے جامع ہیلتھ انشورنس سکیموں کو نافذ کریں۔ اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی ناصر اقبال بوسال، سعیدہ جمشید، ارم حامد، فتح اللہ خان، ذوالفقار علی بھین، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، فرحان چشتی، صوفیہ سعید شاہ اور محمد الیاس چوہدری نے شرکت کی جبکہ وزارت سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل کے افسران بھی موجود تھے۔