اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):پیشہ ورانہ ترقی اور ذاتی کامیابی کے دائرے میں چند کہانیاں ایک پاکستانی نوجوان عثمان انور کی کہانی کی طرح روشن ہیں، جو ساہیوال کوئلہ سے چلنے والے پاور پلانٹ کے ملازم ہیں۔ان کا سفر پاکستان میں ایک متجسس طالب علم سے لے کر ملک کے اہم توانائی منصوبوں میں سے ایک 1320 میگاواٹ ساہیوال کول پاور پراجیکٹ میں کلیدی کردار ادا کرنے تک، ایک ایسی …
ساہیوال کول پاور پراجیکٹ کا اپنے ملازم کی پیشہ ورانہ ترقی میں اہم کردار

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):پیشہ ورانہ ترقی اور ذاتی کامیابی کے دائرے میں چند کہانیاں ایک پاکستانی نوجوان عثمان انور کی کہانی کی طرح روشن ہیں، جو ساہیوال کوئلہ سے چلنے والے پاور پلانٹ کے ملازم ہیں۔ان کا سفر پاکستان میں ایک متجسس طالب علم سے لے کر ملک کے اہم توانائی منصوبوں میں سے ایک 1320 میگاواٹ ساہیوال کول پاور پراجیکٹ میں کلیدی کردار ادا کرنے تک، ایک ایسی داستان ہے جو عزائم، سیکھنے اور غیر متزلزل عزم سے بھری ہوئی ہے۔
ہفتہ کو یہاں جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق یہ کہانی 2016 میں شروع ہوئی۔ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے چین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ بہت سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا ایک چیلنج اور موقع دونوں ہے۔عثمان کے لیے، یہ تعلیمی، ثقافتی اور ذاتی طور پر ایک نئی دنیا کا دروازہ تھا۔چین میں اپنے تین سال کے دوران انہوں نے نہ صرف اپنے مطالعاتی شعبے میں گہرائی سے تحقیق کی بلکہ چین کی بھرپور اور متنوع ثقافت میں بھی خود کو مگن کیا۔
بیجنگ کے تاریخی راہداریوں سے گزرنے سے لے کر شنگھائی کے مستقبل کے شاندار اسکائی لائن کو دیکھنے تک، انہوں نے کئی شہروں کی سیر کی اور چین میں زندگی کے بارے میں جامع سمجھ بوجھ حاصل کی۔ان تجربات نے ان کے نقطہ نظر کو وسعت دی اور بین الاقوامی تعاون، جدت، اور ثقافتی تنوع کے لیے ایک منفرد قدر پیدا کی۔پھر ایک زندگی بدل دینے والا موقع آیا جب انہیں پاکستان میں ساہیوال کول پاور پلانٹ میں شمولیت کی پیشکش ہوئی۔
یہ پاور پلانٹ، جو چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت تیار کیا گیا، دونوں ممالک کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی علامت ہے۔عثمان نے 2019 میں اپنا ماسٹرز پروگرام کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد اس شاندار موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور چین میں حاصل کردہ علم، ہنر اور تجربات کے ساتھ عملی دنیا میں قدم رکھا۔وہ ساہیوال کوئلہ سے چلنے والے پاور پلانٹ کے ابتدائی دنوں کو فخر اور شکرگزاری کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
پیشہ ورانہ کامیابی کے علاوہ، اس نوکری نے ان کی ذاتی زندگی میں بھی نمایاں تبدیلیاں لائیں۔مستحکم آمدنی اور ایک مکمل کیریئر کے ساتھ، وہ اپنے خاندان کی مالی مدد کرنے کے قابل ہوئے، جو ان کے لیے ایک عزیز ذمہ داری ہے۔عثمان نے کہا کہ میرے خاندان کی مدد کرنا میری سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ ان کی آنکھوں میں سکون اور خوشی دیکھ کر میری ہر محنت قابل قدر لگتی ہے،یہ صرف ایک نوکری نہیں، یہ ایک مشن ہے کہ ملک بھر کے گھروں میں روشنی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاور پلانٹ میں ان کا کردار دو ثقافتوں کے درمیان ایک پل کا کام بھی کرتا ہے۔ اس ثقافتی روانی نے نہ صرف ٹیم ورک کو بہتر بنایا بلکہ سی پیک کے جذبے کو بھی مضبوط کیا، جس کا مقصد دونوں ممالک میں اقتصادی اور سماجی ترقی لانا تھا۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ایسی پیداواری ماحول میں ہونا افراد کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ان کا کردار تنظیم کے اہداف میں کس طرح حصہ ڈالتا ہے، جس سے ان کا کام زیادہ معنی خیز اور دلچسپ ہوتا ہے۔
انہوں نے نئے گریجویٹس کو سرحدوں سے آگے دیکھنے اور نئے تجربات کے لیے اذکان کھلے رکھنے کی ترغیب دی۔انہوں نے کہا کہ اگر میں نے چین میں تعلیم حاصل کرنے کا قدم نہ اٹھایا ہوتا، تو شاید مجھے یہ شاندار موقع نہ ملتا۔ کبھی کبھی، آپ کو اپنے آرام کے دائرے سے باہر نکالنا پڑتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو کہ آپ کا اصل مقام کہاں ہے۔عثمان تعلیم، سیکھنے، ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ ترقی، بین الثقافتی تعاون اور لگن کے ذریعے حاصل کی جا سکنے والی کامیابی کی ایک روشن مثال ہیں۔








