سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ، ججز کے ضابطۂ اخلاق میں ترامیم کی منظوری، 74 شکایات پر فیصلے

اسلام آباد۔ 18 اکتوبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں سپریم کورٹ میں ہفتہ کو سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس میں منعقد ہوا۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، جبکہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس محترمہ عالیہ نیلم اور اسلام آباد …

اسلام آباد۔ 18 اکتوبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں سپریم کورٹ میں ہفتہ کو سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس میں منعقد ہوا۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، جبکہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس محترمہ عالیہ نیلم اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے بذاتِ خود شرکت کی۔کونسل نے 12 جولائی 2025 کے فیصلے کے تحت ججز کے ضابطۂ اخلاق میں مجوزہ ترامیم پر غور کیا۔

تفصیلی مشاورت کے بعد ترامیم کو بعض تبدیلیوں کے ساتھ اکثریتی رائے سے منظور کرلیا گیا۔ کونسل نے ہدایت دی کہ منظور شدہ ترامیم کو سرکاری گزٹ میں شائع کیا جائے، اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججز کو ارسال کیا جائے اور سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے۔اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت مختلف افراد کی جانب سے دائر 67 شکایات کا جائزہ لیا گیا۔

ان میں سے 65 شکایات کو متفقہ طور پر نمٹا دیا گیا، ایک شکایت مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ ایک شکایت کو اکثریتی فیصلے سے مزید کارروائی کے لیے منظور کیا گیا۔بعد ازاں آرٹیکل 209 (3)(ب) کے تحت کونسل کو ازسرنو تشکیل دیا گیا کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایجنڈے کے کچھ امور پر شرکت سے معذرت کر لی۔

ازسرنو تشکیل شدہ کونسل میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ایس. ایم. عتیق شاہ شامل ہوئے۔ نئی تشکیل شدہ کونسل نے مزید 7 شکایات پر غور کیا، جن میں سے 5 کو متفقہ طور پر نمٹا دیا گیا جبکہ 2 شکایات کو اکثریتی فیصلے سے مزید کارروائی کے لیے منظور کیا گیا ۔مجموعی طور پر 74 شکایات پر فیصلے کے بعد اب وہ مقدمات جن پر ابتدائی غور باقی ہے، ان کی تعداد 87 رہ گئی ہے، جبکہ اکتوبر 2024 سے اب تک سپریم جوڈیشل کونسل 155 شکایات پر کارروائی کر چکی ہے۔