افغانستان کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کی کامیابی قابل اطمینان ہے،تشدد پسندانہ رویوں کو ختم کرنا ہو گا،طاہر محمود اشرفی

لاہور۔19اکتوبر (اے پی پی):افغانستان کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کی کامیابی قابل اطمینان ہے ، امید کرتے ہیں کہ اس پر مکمل عمل ہو گا،انتہا پسندی اور لا قانونیت کے ساتھ ملک ترقی نہیں کر سکتا، تشدد پسندانہ رویوں کو ختم کرنا ہو گا ، تحریک لبیک سے آخری لمحے تک مذاکرات ہوتے رہے مگر افسوس کہ کوئی حل نہ نکل سکا، تمام مذہبی قائدین پیغام پاکستان …

لاہور۔19اکتوبر (اے پی پی):افغانستان کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کی کامیابی قابل اطمینان ہے ، امید کرتے ہیں کہ اس پر مکمل عمل ہو گا،انتہا پسندی اور لا قانونیت کے ساتھ ملک ترقی نہیں کر سکتا، تشدد پسندانہ رویوں کو ختم کرنا ہو گا ، تحریک لبیک سے آخری لمحے تک مذاکرات ہوتے رہے مگر افسوس کہ کوئی حل نہ نکل سکا، تمام مذہبی قائدین پیغام پاکستان پر عملدرآمد کروائیں۔

یہ بات چیئرمین پاکستان علما کونسل و کوآرڈینیٹر قومی پیغام امن کمیٹی پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے علما و مشائخ کے ہمراہ مدرسہ جامعہ مسجد کبری نیو سمن آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر مولانا مخدوم منظور احمد، مولانا عاصم مخدوم، مولانا محمد اسلم صدیقی، حافظ محمد نعمان حامد، مولانا اسد اللہ فاروق ، مولانا مبشر رحیمی ، مولانا قاری عبد الحکیم اطہر ، قاری فیصل امین ، مولانا محمد اشفاق پتافی سمیت دیگر علما کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ تکفیری فتوے اور دوسرے مکاتب فکر کی توہین ناقابل قبول ہے، ریاست، آئین پاکستان اور قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہو گا، خود ہی منصف اور جلاد کا کلچر نہیں چل سکتا ۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور حکومت نے فلسطین کے معاملے پر پاکستان کا واضح موقف سب کے سامنے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل دہشت گرد اور مسلمانوں کاقاتل ہے سعودی عرب اور پاکستان سمیت دیگر ممالک نے ملکر امریکی صدر سے امن معاہدہ کروایا مگر جہاں امن معاہدے کیلئے امریکی صدر کی حمایت کی وہاں اسرائیلی خلاف ورزی کی مذ مت بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا پاکستان کو اللہ تعالی نے معرکہ حق میں کامیابی دی اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن کو شکست دی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف بڑا واضح ہے کہ ہم وہ آزاد فلسطینی ریاست چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ والے دن پورے پاکستان میں ایک مسجد بھی سیل نہیں تھی یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم زندہ ہوں اور مساجد کے دروازے نمازیوں کیلئے بند ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارے بھائیوں کا ملک ہے اسکی آزادی کیلئے ہم نے اپنا خون بہایا ہے لیکن جہاں بھائی غلطی کرئے گا اسکی بازپرس بھی ہمارا حق ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم قطر میں پاک افغان امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں ،امید ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہو گی۔