پاک۔ افغان معاہدے کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے مسئلے کو ختم کرنا ہے، معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کیلئے ایک اور اجلاس آئندہ ہفتے استنبول میں ہو گا، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا الجزیرہ کو انٹرویو

اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاہدے کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے مسئلے کو ختم کرنا ہے، معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کیلئے ایک اور اجلاس آئندہ ہفتے استنبول میں ہو گا، امید ہے کہ اب امن بحال ہوگا اور پاکستان و افغانستان کے تعلقات معمول پر آجائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں …

اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاہدے کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے مسئلے کو ختم کرنا ہے، معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کیلئے ایک اور اجلاس آئندہ ہفتے استنبول میں ہو گا، امید ہے کہ اب امن بحال ہوگا اور پاکستان و افغانستان کے تعلقات معمول پر آجائیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ کے حوالے سے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، ترک صدر طیب اردوان اور ترک وفد کے سربراہ ابراہیم کاشکریہ ادا کرتے ہیں ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاہدے کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے مسئلے کو ختم کرنا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی برسوں سے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے ، گزشتہ ہفتے دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست جھڑپ تک پہنچ گیا تھا، دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دہشت گردی کا فوری خاتمہ ضروری ہے ، دونوں ممالک دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ کوششیں کریں گے ورنہ خطے کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر قطر اور ترکیہ کی ثالثی سے ہوا ہے، معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کیلئے ایک اور اجلاس آئندہ ہفتے استنبول میں ہو گا جس میں معاہدے کی تفصیلات پراتفاق کیا جائے گا ۔

خواجہ محمد آصف نے کہا کہ افغان وزیرِ دفاع نے تسلیم کیا کہ دہشتگردی ہی ہمارے تعلقات میں تناؤ کی اصل وجہ ہے جسے اب قابو میں لایا جائے گا ،ایک مؤثر طریقہ کار واضح کیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ مسائل کو حل کیا جا سکے، قطر اور ترکیہ کی موجودگی اس معاہدے پر بذاتِ خود ضمانت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے ، امید ہے کہ اب امن بحال ہو گا اور پاکستان و افغانستان کے تعلقات معمول پر آجائیں گے ، نتیجتاً پاک افغان تجارت اور ٹرانزٹ بھی دوبارہ شروع ہو گی اور افغانستان پاکستانی بندرگاہوں کو استعمال کر سکے گا۔

وزیردفاع نے کہا کہ جن افغان مہاجرین کے پاس قانونی ویزے اور کاغذات ہیں وہ پاکستان میں رہ سکیں گے، افغان مہاجرین کی بڑی تعداد ایسی ہے جس کے پاس کوئی دستاویز نہیں اس لیے ان کی واپسی جاری رہے گی،پاک افغان بارڈر کا استعمال بھی باضابطہ ہونا چاہیے جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خدشات کے خاتمے کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ ہم سو فیصد مطمئن ہیں، ہمیں آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں دیکھنا ہو گا کہ معاہدے پر کتنا عمل ہوتا ہے، پاکستان اور افغانستان صدیوں سے ہمسائے ہیں، جغرافیہ بدلا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک اچھے تعلقات کے ساتھ آگے بڑھ سکیں گے، برادر ممالک قطر اور ترکیہ کی موجودگی نے ہمیں اعتماد دیا ہے ہم ان کے شکر گزار ہیں